1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایرانی پاسداران انقلاب اب دہشت گرد گروپوں کی کینیڈین لسٹ میں

20 جون 2024

کینیڈا نے ایران کی ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب کو 'دہشت گرد' گروپ قرار دیتے ہوئے ایران میں موجود اپنے شہریوں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے۔ اوٹاوا نے تہران پر 'انسانی حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز' کرنے کا بھی الزام لگایا۔

https://p.dw.com/p/4hHTi
پاسداران انقلاب فورسز
پابندی کا مطلب یہ ہوگا کہ پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیداروں سمیت ایرانی حکومت کے ہزاروں اعلیٰ حکام پر کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد ہو گیتصویر: Iranian Army Office/ZUMA/picture alliance

کینیڈا میں حزب اختلاف کے قانون سازوں کے برسوں کے دباؤ کے بعد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (پاسداران انقلاب فورسز) کو بالآخر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی، امریکہ

بدھ کے روز اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے، پبلک سیفٹی کے وزیر ڈومینک لی بلینک نے اس قدم کو ''عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار'' قرار دیا۔

ایران اسرائیل کشیدگی، مزید امریکی فوجی مشرق وسطیٰ روانہ

اس اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیداروں سمیت ایرانی حکومت کے ہزاروں اعلیٰ حکام پر کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد ہو گی۔

امریکہ نے ضبط کردہ ایرانی ہتھیار یوکرین کو دے دیے

اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) ایران کی ایک بڑی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قوت ہے، جس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے قریبی تعلقات ہیں۔

شام: مبینہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایرانی پاسدارن انقلاب کے متعدد اراکین ہلاک

امریکہ نے سن 2019 میں ہی اس تنظیم کو ''دہشت گرد'' گروپ قرارد ے دیاتھا۔

کینیڈا نے اس اقدام کے حوالے سے کیا کہا؟

کینیڈا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ''آئی آر جی سی کو ضابطہ فوجداری کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ ایک مضبوط پیغام بھیجتا ہے

شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں اعلیٰ ایرانی فوجی مشیر ہلاک

 کہ کینیڈا آئی آر جی سی کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے دائرہ اختیار میں تمام ذرائع استعمال کرے گا۔ بذات خود کارروائی کرنے کے ساتھ ہی اس تنظیم کے حزب اللہ اور حماس جیسے دہشت گرد گرپوں کے ساتھ وابستگی رہی ہے۔''

پاسدارن انقلاب کے اعلی حکام
اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) ایران کی ایک بڑی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قوت ہے، جس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے قریبی تعلقات ہیںتصویر: Tasnimnews

کئی برسوں سے کینیڈا میں حزب اختلاف کے قدامت پسند قانون ساز وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پر زور دے رہے تھے کہ وہ پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کر دیں۔

پہلے ’میڈ ان ایران‘ ہائپر سونک میزائل ’فتاح‘ کی نمائش

بدھ کے روز کینیڈا کے عوامی تحفظ کے وزیر ڈومینک لی بلینک نے اس فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انسانی حقوق کے ریکارڈ بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔

’ایران کے انقلابی گارڈز کو عدالتی فیصلے سے پہلے دہشت گرد گروپ قرار نہیں دیا جا سکتا‘، یورپی یونین

ان کا کہنا تھا، ''ایرانی حکومت نے ایران کے اندر اور باہر انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''پاسداران انقلاب پر پابندی کینیڈا کی حکومت کی ان وسیع تر کوششوں کو یقینی بناتی ہے کہ ایران کے غیر قانونی اقدامات اور دہشت گردی سے متعلق اس کی حمایت کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔''

کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی نے ''غیر قانونی حراست'' کے بڑھتے ہوئے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ملک کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا، ''وہ لوگ جو ابھی ایران میں موجود ہیں، ان کے گھر واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔ جو لوگ ایران جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ نہ جائیں۔''

تہران اور اوٹاوہ کے کشیدہ تعلقات

اس پابندی کے بعد کینیڈا میں پہلے سے موجود ایرانی حکومت کے موجودہ اور سابق اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تفتیش کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

ایران اور کینیڈا کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ اوٹاوا نے سن 2012 میں تہران کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

تاہم یہ تعلقات سن 2020 میں اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب ایران نے ایک طیارہ مار گرایا، جس میں درجنوں کینیڈین شہری اور وہاں کے مستقل رہائشی سوار تھے۔

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں کینیڈین حکومت نے پہلے دباؤ کے باوجود آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم برسوں کے مستقل دباؤ کے بعد بالآخر یہ فیصلہ کر لیا گیا۔

ص ز/ ج ا (نیوز ایجنسیاں)

آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں کون؟