1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہافریقہ

کینیا: ٹیکس تجاویز کے خلاف پرتشدد مظاہرے، پارلیمنٹ پر دھاوا

26 جون 2024

ٹیکسوں میں اضافے کی تجویز کے خلاف ہزاروں مشتعل افراد نے منگل کے روز پارلیمان پر دھاوا بول دیا جب کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں حکومت کے خلاف عوام کی یہ شدید ترین ناراضی ہے۔

https://p.dw.com/p/4hVq5
کینیا میں جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، فن لینڈ، ڈنمارک، ناروے اور دیگر ملکوں کے سفارت خانوں نے پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے
کینیا میں جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، فن لینڈ، ڈنمارک، ناروے اور دیگر ملکوں کے سفارت خانوں نے پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا ہےتصویر: LUIS TATO/AFP/Getty Images

کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ منگل کے روز ہزاروں افراد نے پارلیمان پر دھاوا بول دیا اور ایوان کو آگ لگا دی۔ قانون سازوں کو بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ انہیں ایک سرنگ کے ذریعہ عمارت سے نکالا گیا۔ تاہم اس سے قبل انہوں نے ٹیکس میں اضافے کی تجویز کو منظوری دے دی۔

کینیا پر ٹڈی دل پل پڑے، کسان پریشان، عوام خوف زدہ

کینیا: عدالت عظمیٰ نے صدارتی اليکشن کے نتائج مسترد کر ديے

گزشتہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ حکومت کے خلاف عوام کی ایسی شدید ترین ناراضی دیکھنے کو ملی ہے۔ مشتعل مظاہرین نے ایک گورنر ہاوس کو بھی آگ لگادی، جب کہ سپریم کورٹ میں کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ ٹیکس بڑھانے کی تجویز دینے والے رکن پارلیمان کی سپر مارکیٹ اور ایک سٹی ہال کو بھی آگ لگا دی گئی۔ پولیس کی فائرنگ میں دس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جب کہ پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

صدارتی نتائج کا اعلان اور پرتشدد واقعات شروع

کینیا کے ’ریٹرن ٹو اسکول‘ پروگرام سے کئی لڑکیاں مستفید

دارالحکومت نیروبی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل داغے اور پانی کی توپ چلائی۔

ریڈکراس کا کہنا ہے کہ کینیا مظاہروں میں ریڈ کراس کی گاڑیوں پر بھی حملے کیے گئے، حملوں میں اس کا عملہ اور امدادی اہلکار زخمی ہوئے۔

کینیا کے صدر ولیم روٹو
کینیا کے صدر ولیم روٹو نے تشدد کے واقعات کو غداری قرار دیتے ہوئے ملک سے بدامنی کو ہر قیمت پر ختم کرنے کا عزم کیاتصویر: Luis Tato/AFP/Getty Images

صدر کا بیان

کینیا کے صدر ولیم روٹو، جو ان دنوں ملک سے باہرچھٹیاں منارہے ہیں، نے ان واقعات کو افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا،"آج کے واقعات ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم ہماری قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔"  انہوں نے تشدد کے ان واقعات کو "غداری" قرار دیتے ہوئے ملک سے بدامنی کو "ہر قیمت پر" ختم کرنے کا عزم کیا۔

کینیا کے صدر اور نائب صدر پر فرد جرم عائد

کینیا کے وزیر دفاع نے کہا کہ سکیورٹی ایمرجنسی میں پولیس کی مدد اور اہم بنیادی ڈھانچوں کی حفاظت کے لیے فوج کو تعینات کردیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق مظاہرین نے صدر ولیم روٹو سے مستعفی ہونے اور نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کردیا ہے۔

ہنگامے کا سبب کیا ہے؟

کینیا کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز مالیاتی ترمیمی بل کو منظوری دے کر اس پر دستخط کے لیے صدر کو بھیجا تھا۔ اس مالیاتی بل میں آئی ایم ایف اور دیگر قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں 2.7 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں آئی ایم ایف اور کینیا کے درمیان اسٹاف لیول پر ایک معاہدہ ہوا تھا۔

کینیا میں صرف سود کی ادائیگی میں ملک کی سالانہ آمدنی کا  37 فیصد خرچ ہو جاتا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں اور احتجاج کی کال دینے والی یوتھ موومنٹ نے مالیاتی بل کو غیر مشروط فوری طورپر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس بل نے حکومت کے خلاف لوگوں کو متحد کردیا ہے۔ ایک نوجوان خاتون آسکر سائنا نے خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں صدر کی باتوں میں آگئی تھی، اب مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میں نے انہیں ووٹ کیوں دیا۔"

منگل کے روز ہزاروں افراد نے پارلیمان پر دھاوا بول دیا اور ایوان کو آگ لگا دی
منگل کے روز ہزاروں افراد نے پارلیمان پر دھاوا بول دیا اور ایوان کو آگ لگا دیتصویر: LUIS TATO/AFP

عالمی برادری کا ردعمل

امریکہ سمیت کئی ملکوں کے سفارت کاروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے کینیا کی اس تازہ صورت حال پر "تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نیروبی کی صورت حال پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے،"ہم تشدد کی ہر صورت کی مذمت کرتے ہیں اور امن کی اپیل کرتے ہیں۔"

کینیا میں جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، فن لینڈ، ڈنمارک، ناروے اور دیگر ملکوں کے سفارت خانوں نے بھی پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا،"ہمیں انسانوں کی جانوں کے اتلاف اور لوگوں کے زخمی ہونے پر افسوس ہے۔ "

ج ا/ ص ز (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)