کیلیبری فونٹ سوشل میڈیا پر موضوع بحث | حالات حاضرہ | DW | 12.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیلیبری فونٹ سوشل میڈیا پر موضوع بحث

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کیلیبری فونٹ کے حوالے سے مریم نواز شریف کے کچھ دستاویزات کو جعلی قرار دیے جانے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ کیلیبری ٹرینڈنگ موضوع بن گیا ہے۔

مائیکروسافٹ کے ورڈ پروگرام میں کچھ بھی لکھنے کے لیے ’کیلیبری‘ فونٹ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے جس کو تبدیل کرنا کسی بھی صارف کی اپنی صوابدید ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہیش ٹیگ کیلیبری اس وقت سب سے زیادہ ٹرینڈنگ موضوع بن گیا ہے۔ پاناما لیکس کے کیس کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی جوائنٹ انسویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ میں  یہ کہا گیا ہے کہ مریم نواز شریف کی جانب سے فراہم کیے گئے دستاویزات میں کیلیبری فونٹ استعمال کیا گیا حالانکہ اس وقت یہ فونٹ کمرشل سطح پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف نے جے آئی ٹی کو ایسے دستاویزات  پیش کیے تھے جن پر سن 2006 میں دستخط ہوئے تھے۔ جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اس حوالے سے لکھا ہے، ’’دونوں تصدیق شدہ دستاویزات میں کیلیبری فونٹ استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ کیلیبری فونٹ  31 جنوری 2007 سے قبل کمرشل استعمال کے لیے دستیاب نہیں تھا۔ اور اس وجہ سے ان دونوں دستاویزات میں صحیح تاریخ نہیں بتائی گئی۔‘‘

پاکستان کے سوشل میڈیا پر کچھ افراد ایسے دلائل پیش کر رہے ہیں جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیلیبری فونٹ سن 2006 میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ دوسری جانب ایسے افراد بھی ہیں جو کیلیبری فونٹ کے خالق لوکاس ڈی گروٹ کے مختلف ذرائع ابلاغ کو دیے جانے والے بیان کو شیئر کر رہے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں، ’’مائیکروسافٹ آفس 2007 نے پہلی مرتبہ کیلیبری کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنا شروع کیا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ کیلیبری فونٹ کا بیٹا ورژن عام طور پر تکنیکی ماہرین ہی استعمال کرتے ہیں۔

 یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سے  ویکیپیڈیا پر کیلیبری فونٹ سے متعلق معلومات کو کئی بار تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق جب تک فونٹ کا تنازعہ حل نہیں ہوتا اس سے متعلق صفحے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔

DW.COM