کیلاش: منفرد ثقافت کے معدوم ہونے کا خطرہ | فن و ثقافت | DW | 12.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کیلاش: منفرد ثقافت کے معدوم ہونے کا خطرہ

کیلاش پاکستان کی سب سے چھوٹی مذہبی اقلیت ہے۔ یہ لوگ اپنی زبان ’کلاشہ‘ بولتے ہیں اور یہ اپنے تہوار بھی انتہائی مختلف انداز میں مناتے ہیں۔ تاہم اب یہ منفرد اقلیت ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔

شمالی پاکستان میں چترال کی پہاڑیوں میں کیلاش اقلیت کئی صدیوں سے آباد ہے۔ ان کی ثقافت بالکل ہی مختلف ہے۔ ان کا رقص، موسیقی یا پھر عبادات اپنی الگ پہچان لیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنی شراب بھی خود ہی تیار کرتے ہیں۔ یہاں کے باسیوں کا شمار آزاد خیال لوگوں میں ہوتا ہے۔ تاہم اب کیلاشیوں کو خوف ہے کہ ان کی ثقافت خطرے میں ہے۔ ان کے نوجوان بہت تیزی سے مذہب تبدیل کرتے ہوئے مسلمان ہوتے جا رہے ہیں۔

مختلف تنظیمیں ان کوششوں میں لگی ہوئی ہیں کہ یہاں کی قدیمی روایات اور ختم ہوتے ہوئے قبائلی نظام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسی تناظر میں یہاں کے مقامی لوگ گزشتہ آٹھ برسوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ تاہم نظام کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

کیلاش کے باشندوں کے گورے رنگ اور نیلی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کوئی انہیں سکندر اعظم کے گمشدہ فوجیوں کی اولاد قرار دیتا ہے تو کوئی انہیں منگولوں سے منسوب کرتا ہے۔ کئی صدیوں پہلے تک یہ لوگ پورے چترال پر حکومت کرتے تھے تاہم کیلاش کے عوام کی ترقی کے نیٹ ورک ’کے پی ڈی این‘ کے مطابق اب ان کی تعداد محدود ہو کر تین ہزار تک رہ گئی ہے۔ اسکول میں بچوں کو کیلاش کی مذہبی روایات پڑھانے کی بجائے اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کو اپنی پڑوسی مسلم آبادی سے بھی خطرات ہیں، جو ان کی غیر اسلامی روایات کو علاقے میں آنے والی قدرتی آفات کی وجہ قرار دیتی ہیں۔

کے پی ڈی این کے ایک اہلکار لوک رحمت کہتے ہیں،’’ کیلاش ایک ایسی تہذیب ہے، جسے پاکستان حکومت کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے یونیسیکو کی تجویز کو سنجیدگی سے نہ لینے کی ذمہ داری حکومتی اہلکاروں پر عائد کی۔ لوک رحمت کے بقول کیلاشی کسی کے انتقال پر افسوس کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوئے خوشی مناتے ہیں کہ مرنے والے نے اپنا سفر مکمل کر لیا۔ اس دوران تین روز تک رقص و موسیقی کی محفلیں سجتی ہیں۔ خواتین کو اپنے شوہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے ساتھ شادی کرنے کا اختیار ہوتا ہے تاہم اس کے لیے نئے شوہر کو خاتون کی جانب سے طے کی جانے والی رقم ادا کرنا ہوتی ہے۔

یونسیکو کے اسلام آباد دفتر میں ثقافت کے شعبے کے افسر جواد عزیز کہتے ہیں، ’’کیلاش ثقافت کو بچانے کے لیے لوک ورثہ 1980ء کی دہائی سے کام کر رہا ہے اور عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں کیلاش کو شامل کروانا بھی ان کے منصوبے میں شامل ہے۔‘‘