کیتھولک مسیحیوں کا اجتماع: ’مہاجرین کا مسئلہ سر فہرست‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 24.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیتھولک مسیحیوں کا اجتماع: ’مہاجرین کا مسئلہ سر فہرست‘

اس مرتبہ پولینڈ میں منعقد ہونے والے مذہبی اجتماع ’ورلڈ یوتھ ڈے‘ کے موقع پر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس مہاجرین کو یورپ میں خوش آمدید کہنے پر زور دیں گے۔ یہ اجتماع پچیس جولائی تا یکم اگست تک جاری رہے گا۔

پوپ فرانسس بدھ کے روز اپنے پانچ روزہ دورے پر پولینڈ پہنچیں گے جہاں وہ کراکوف نامی شہر میں ’ورلڈ یوتھ ڈے‘ میں شرکت کریں گے۔ متوقع طور پر وہ اس دوران یورپ میں مہاجرین کو پناہ دینے کے معاملے پر اپنے مؤقف کی وکالت کریں گے۔ مہاجرین کا یہ موضوع اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ یہ مسئلہ پولینڈ میں ایک انتہائی حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔

DW.COM

حالیہ دنوں میں یورپ میں ہونے والوں حملوں کے تناظر میں ورلڈ یوتھ ڈے کے دوران سکیورٹی انتہائی چوکس رکھی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ چالیس ہزار سکیورٹی اہل کاروں کو کراکوف میں تعینات کیا جائے گا جب کہ پولش حکومت پہلے ہی اپنی سرحدوں کی نگرانی سخت کر چکی ہے۔

اس مذہبی اجتماع میں متوقع طور پر دو ملین افراد شرکت کریں گے لیکن منتظمین کے مطابق ابھی تک صرف چار لاکھ افراد نے ہی اس ایونٹ میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔

سن دو ہزار سولہ کے ورلڈ یوتھ ڈے کا مرکزی خیال ہے ’وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو رحم ‌دل ہیں کیوں کہ اُن پر رحم کیا جائے گا‘ (متی5:7)۔ اطالوی مہاجر والدین کے بیٹے پوپ فرانسس نے یورپ کودرپیش مہاجرین کے بحران میں مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ یورپ کو مہاجرین کو مذہب کی بنیاد سے بالاتر ہو کر پناہ دینا چاہیے۔

پولینڈ میں ویٹی کن کے سفیر آرچ بشپ سیلسٹینو مگلور نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پوپ فرانس ورلڈ یوتھ ڈے کے موقع پر مہاجرین کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوپ فرانسس کا مؤقف واضح ہے اور انہوں نے ہر یورپی گھرانے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک مہاجر کنبے کا سہارا بنیں۔

پوپ فرانسس اپنے اس مؤقف کا اظہار اپنے عملی اقدامات سے بھی کر چکے ہیں۔ رواں برس اپریل میں جب انہوں نے یونانی جزیرے لیسبوس کا دورہ کیا تھا تو واپسی پر وہ بارہ مسلمان شامی مہاجرین کو بھی اپنے ساتھ ویٹی کن لے گئے تھے۔ اس وقت پوپ فرانسس نے کہا تھا، ’’میں مسلمان اور مسیحی افراد کے مابین تفریق نہیں کرتا کیوں کہ تمام مہاجرین خدا کی مخلوق ہیں۔‘‘

Griechenland Papst Franziskus auf Lesbos mit Flüchtlingen

پوپ فرانسس مہاجرین سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار اپنے عملی اقدامات سے بھی کر چکے ہیں

ویٹی کن نے پولینڈ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کا کھلے دل سے استقبال کریں تاہم پولش وزیر اعظم اور ان کی دائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والی حکمران پارٹی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مہاجرین کو خوش آمدید کہنے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ دیگر کئی یورپی ممالک کی طرح پولش عوام کی بڑی تعداد مہاجرین کی آمد کی حوالے سے خوش نہیں ہے۔

ورلڈ یوتھ ڈے کا یہ انتیسواں اجتماع ہے۔ اس کا آغاز پوپ جان پال دوئم نے کیا تھا اور اس کا پہلا اجتماع 1986ء میں روم میں ہوا تھا۔ تب سے ہی تیرہ اجتماع دنیا بھر میں مختلف شہروں میں چکے ہیں، جن میں برازیل کا گزشتہ اجتماع بھی شامل ہے۔

اشتہار