کیبن کرو ہڑتال: لفتھانزا کی 930 مزید پروازیں منسوخ | حالات حاضرہ | DW | 11.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیبن کرو ہڑتال: لفتھانزا کی 930 مزید پروازیں منسوخ

جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا کے کیبن کریو کی ہڑتال کی وجہ سے مزید 930 پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل عدالت نے اپنے فیصلے میں جہاز کے عملے کو اپنی ہڑتال جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لفتھانزا کے عملے کی یہ ہڑتال اس فضائی کمپنی کی تاریخ کی بدترین ہڑتال میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے جرمنی کا سب سے بڑا ہوائی اڈا فرینکفرٹ ایئرپورٹ ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ ڈوسلڈورف اور میونخ کے ہوائی اڈے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ گزشتہ چار روز سے جاری اس ہڑتال کی وجہ سے لفتھانزا کو اب تک 28 سو پروازیں منسوخ کرنا پڑی ہیں جب کہ اس سے تین لاکھ مسافر متاثر ہوئے ہیں۔

لفتھانزا کے کیبن کریو کی یونین UFO نے جمعے کے روز ادارے کے بچتی اقدامات اور پینش کی عمر کے تنازعے پر ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس میں اب تک صرف جمعے کے روز وقفہ کیا گیا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ہڑتال جمعے تک جاری رہے گی۔

اس عمل کو لفتھانزا نے عدالت میں چیلنج کیا تھا، تاہم ڈارم شٹٹ کی لیبرکورٹ نے اس ہڑتال کو قانونی اور جائز قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت دے دی۔ عدالت کا یہ فیصلہ فرنیکفرٹ اور میونخ کے ہوائی اڈوں پر لاگو ہوتا ہے۔

لفتھانزا ایئرلائن کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جہازوں کے عملے کی یونین کی جانب سے کیے جانے والے مطالبے ’مبہم‘ اور جرمن لیبر قانون کے منافی ہیں، تاہم عدالت نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔

لیبر یونین نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بدھ کی صبح چار بجے سے جاری ہڑتال کو رات 12 بجے تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے فرینکفرٹ، میونخ اور ڈوسلڈوف سے لفتھانزا کی تمام پروازیں بند رہیں گی۔

دوسری جانب لفتھانزا کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے کہ جہاز کے عملے کی یونین کی جانب سے سامنے آنے والے مطالبے غیر واضح ہیں اور اب ادارہ اپنا ’اگلا قدم‘ اٹھائے گا۔

اس سے قبل ایک عدالت نے کہا تھا کہ ڈوسلڈورف ہوائی اڈے پر عملے کے ارکان کی ہڑتال غیرقانونی ہے۔ تاہم یہ عدالتی فیصلہ صرف منگل کے دن کے لیے تھا اور اس وقت سامنے آیا، جب پروازیں معطل کی جا چکی تھیں۔ ڈوسلڈورف ایئرپورٹ پر ہڑتال سے متعلق بقیہ عدالتی فیصلہ بدھ کی شام متوقع ہے۔

اشتہار