کیا یہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست ٹکر ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 26.09.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا یہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست ٹکر ہے؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ملک واپس آتے ہی ملک کے دو طاقتور ترین اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی پریس کانفرنس نے کئی سیاسی مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے لیکن نواز شریف کے لیے اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ’فوج اور عدلیہ‘ پر تنقید کے نشتر چلائے۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس کی وجہ سے آنے والے وقت میں سابق وزیرِ اعظم کے سیاسی کیریئر کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ پاکستان کے معروف صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے خیال میں آج کی پریس کانفرنس کو ملک کے مقتدر حلقوں میں اچھے انداز میں نہیں دیکھا جائے گا۔ مسلم لیگ کے سابق قائد کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح طور پر عدلیہ کو تنقیدکا نشانہ بنایا، جب کہ فوج کا نام لیے بغیر ان پر بھی تنقید کے نشتر چلائے۔ ظاہر ہے اسٹیبلشمنٹ کو یہ اندازہ ہے کہ میاں صاحب کی تنقید کا رخ کس طرف تھا؟ دو طاقتور اداروں کے خلاف بول کر میاں صاحب نے اپنے سیاسی کیریئر کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کی تقریر انتہائی جارحانہ تھی،’’ان کی پریس کانفرنس میں سرکشی کا بھی عنصر تھا اور انہوں نے واضح طور پر یہ بتا دیا ہے کہ ان کا عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے۔ اس صورتحال میں ان کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، یہاں تک کہ ان کو جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے اور جس کے لیے وہ تیار بھی نظر آتے ہیں،گو کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ اس موڈ میں نہیں کہ ان کو جیل بھیجا جائے۔ تاہم سرکش انداز میاں صاحب کو اس نہج پر لے کر جا سکتا ہے۔‘‘

نواز شریف احتساب عدالت میں پیش
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’شاہد خاقان عباسی کی حکومت بہت کمزور ہے اور جب بھی ملک میں کمزور حکومت ہوتی ہے تو جمہوریت کو خطرات تو لاحق ہو ہی جاتے ہیں۔‘‘
تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں آئندہ انتخابات تک نہ صرف نواز شریف کا سیاسی مستقبل خطرات میں گھرا رہے گا بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی، ’’آج کی پریس کانفرنس نے مسلم لیگ کے ان روایتی سیاست دانوں کو پریشان کر دیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات بنا کر اگلے انتخابات جیتنے کا سوچ رہے تھے لیکن میاں صاحب کی دھواں دھار پریس کانفرنس نے ان کے دل میں ڈر پیدا کر دیا ہے اور اب ان کو یقین ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لے کر سیاست کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ پنجاب کے دیہی علاقوں سے کئی سیاست دان آنے والے وقتوں میں ن لیگ کو چھوڑ سکتے ہیں اور اس طرح مسلم لیگ سیاسی طور پر کمزرو ہو جائے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ  نیب کے اقدامات ظاہر کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے لیے مسقتبل میں بہت سی مشکلات آنے والی ہیں،’’پی پی پی کے دور میں لاہور ہائی کورٹ نے میاں صاحب کے خلاف کئی مقدمات دوبارہ نہیں کھولے لیکن اب پرانے مقدمات کھولے جارہے ہیں، جس سے یہ پیغام جائے گا کہ شریف گھرانے کا سیاسی زوال آنے کو ہے۔ مسلم لیگ میں ایک بڑی تعداد ابن الوقت سیاست دانوں کی ہے، جو زوال کی شکل میں فوراﹰ بھاگیں گے اور کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔‘‘
پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تاریخ کا حصہ بننے جارہے ہیں،’’میرے خیال میں نواز شریف تاریخ کا حصہ بننے جار ہے ہیں، جس طرح کے ثبوت ان کے خلاف ہیں، اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان کی سزا کا نہ صرف امکان ہے بلکہ سزا یقینی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں صدر اپنے اختیارات استعمال کر کے انہیں معاف کر دیں لیکن سزا پھر بھی بر قرار رہے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا مستقبل میں کوئی سیاسی کردار نہیں ہوگا۔ نواز شریف کے جانے سے جو سیاسی خلاء پیدا ہوگا، پی پی پی اس کو پر کرے گی۔‘‘

DW.COM