کیا گوگل انسانوں کو کند ذہن بنا رہا ہے؟ | سائنس اور ماحول | DW | 01.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کیا گوگل انسانوں کو کند ذہن بنا رہا ہے؟

آپ سے سوال کیا پوچھا گیا ہے کہ آپ جیسے جواب سوچ ہی نہیں پا رہے۔ سوچ سوچ کے بے حال ہیں، مگر جواب سوجھنے کا نام نہیں لے رہا۔ سائنس دانوں کے مطابق اصل مسئلہ آپ نہیں گوگل ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں نیوروسائنٹِسٹ اور مصنف ڈین برنیٹ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ ماضی میں لوگ لمبے لمبے مضامین، نظمیں اور دیگر مواد یاد کرتے تھے اور اس طرح انہیں کہیں کچھ سنانے میں آسانی ہوتی تھی، اسکولوں میں بھی ایسا ہی سکھایا جاتا تھا۔ برنیٹ کا تاہم کہنا ہے کہ بہت سا مواد ذہن نشین کر لینا ذہانت کی علامت نہیں اور نہ ہی ایسی اہلیت کا نہ ہونا آپ کے ’کندذہن‘ ہونے کی نشانی نہیں۔

جب ٹرمپ نے خود ہی کو ’گوگل کیا‘

اوہ! گوگل پکچرز میں idiot لکھ کر سرچ کی جائے تو ۔ ۔ ۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ ذہانت کا انحصار کئی چیزوں پر ہے، جن میں جینیاتی عناصر بھی شامل ہیں اور سماجی و ثقافتی ماحول بھی، تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ کوئی شخص معلومات کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ ’’مگر اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ ہمیں زیادہ معلومات کی بھی ضرورت ہے اور اس امر کی بھی کہ ذہن اس معلومات کو پراسیس کیسے کرتا ہے۔‘‘

سوال تاہم یہ ہے کہ گوگل نے ہمارے ذہن کو کیسے متاثر کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں برنیٹ نے کہا، ’’اسے ٹھوس انداز سے بیان کرنا مشکل ہے، کیوں کہ گوگل بہت کم عرصے سے ہمارے درمیان ہے اور یہ مدت ایسی نہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ اس کی وجہ سے ہمارے نیورولوجیکل ردعمل کے ارتقا پر فرق پڑا ہے۔ تاہم یہ بات یقیناﹰ دیکھی جا سکتی ہے کہ لوگ اب ذہن پر زور ڈالنے یا سوچنے کی بجائے فوراﹰ ہی گوگل کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

برنیٹ کے مطابق انسانی دماغ عام حالات میں چوں کہ انوکھے پن کو عمومی چیزوں پر فوقیت دیتا ہے اور گوگل ایسے میں کسی موضوع پر لامحدود امکانات کے اچھوتے خیالات سامنے لا رکھتا ہے اس لیے انسان سوچنے اور تدبر کرنے کی بجائے اس کی جانب لپٹ پڑتے ہیں۔ ’’ٹیکنیکلی آپ یہ معاملہ فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر ویب سائٹس پر بھی لاگو کر سکتے ہیں۔‘‘

نیورولوجیکل سائنس دان برنیٹ کے مطابق معلومات کا یہ بے کراں ذخیرہ یقیناﹰ دماغ اپنے پاس رکھنا چاہتا اور اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پاس موجود کسی خاص خیال پر تکیہ کرنے کی بجائے گوگل کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہے۔

اشوتوش پانڈے، ع ت، ع س

DW.COM