کیا پاکستانی معیشت کسی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 19.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا پاکستانی معیشت کسی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟

معاشی ماہرین، سیاست دانوں اور صنعت کاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ کشیدہ صورت حال کو سفارتی طور پر بہتر کرے ورنہ اس صورت حال کے مزید خراب ہونے یا جنگ کی صورت میں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہچ سکتا ہے۔

پاکستانی معیشت گزشتہ ایک سال سے گراوٹ کا شکار ہے، جس میں ادائیگیوں کا عدم توازن، تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری میں کمی نمایاں مسائل ہیں۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے مالی تعاون کے باوجود بھی ملک کی معاشی صورت حال بہتر نہیں ہو سکی۔ اس دگرگوں معاشی صورت حال کے پیش نظر سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کئی معاشی ماہرین، سیاست دان اور تاجر بہت پریشانی سے دیکھ رہے ہیں اور حکومت کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس نے اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل نہیں کیا تو ملک کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکڑ عبدالمالک کا کہنا ہے کہ حکومت کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرے لیکن حالات کو اس نہج پر نہ لے کر جائے جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا، ''ہمیں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ ان پر ظلم ہورہا ہے۔ لیکن ملک کے معاشی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی جنگ یا تصادم کا حصہ بنیں۔ معاشی عدم استحکام کی وجہ سے پندرہ لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ معاشی گروتھ تین اعشاریہ تین فیصد پر پہنچ چکی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ڈالر اوپر جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے پینتالیس لاکھ افراد سطح غربت سے نیچے پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں اگر جنگ ہوتی ہے تو ملک معاشی طور پر تباہ ہو جائے گا۔‘‘

Karte Infografik The Kashmir conflict - disputed territories

ڈاکڑ عبدالمالک کا کہنا ہے کہ حکومت کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرے لیکن حالات کو اس نہج پر نہ لے کر جائے جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔

ماہرین کے خیال میں حکومتی وزیروں کے بیانات سرمایہ کاروں کو مزید پریشان کر رہے ہیں۔ معروف صنعت کار احمد چنائے کے خیال میں وزراء کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی پیداوار پچاس فیصد کم ہو چکی ہے اوراب کشیدگی کی وجہ سے امپورٹرز آڈرز نہیں دے رہے کیونکہ صورت حال غیر یقینی ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ ہم وقت پر ان کی اشیاء انہیں دے بھی سکیں گے یا نہیں۔ سب کو یہ معلوم ہے کہ کاروربار میں وقت کی اہمیت کتنی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنا دفاع ضرور کرنا چاہیے لیکن یہ کام ریلوے یا کسی اور محکمے کے وزیر کا نہیں ہے اور نہ ہی میڈیا کا، جس کی کوریج کی وجہ سے بھی سرمایہ کاروں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔‘‘ چنائے کا کہنا تھا کہ دفاع ضروری ہے لیکن حالات ایسے نہج پر نہیں جانے چاہییں جہاں ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ میڈیا میں جذباتی تجزیے ضرور آ رہے ہیں لیکن اس بات پر بحث نہیں کی جا رہی کہ اس کشیدہ صورت حال سے معیشت کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت اور سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی ضیاء الدین کے خیال میں جنگ کا ایک چھوٹا سا جھٹکا بھی معیشیت کے ستونوں کو بری طرح ہلا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''ایک اسٹڈی کے مطابق اگر ہم پلوامہ کے بعد جو بالاکوٹ کا واقعہ ہوا، تصادم کی طرف جاتے، فوج کو سرحدوں پر لگاتے، ہتھیاروں کا استعمال کرتے، جہازوں پر اخراجات کرتے، تو صرف ایک مہینے کا خرچہ نو بلین ڈالرز کے قریب ہوتا۔ تو ہم اس میعیشت کے ساتھ کیسے اتنی بڑی رقم خرچ کر سکتے ہیں۔‘‘

Pakistan Börse Aktivitäten

صحافی ضیاء الدین کے خیال میں جنگ کا ایک چھوٹا سا جھٹکا بھی معیشیت کے ستونوں کو بری طرح ہلا سکتا ہے۔

ضیاءالدین کا کہنا تھا حکومت کو بھی اس بات کا اندازہ ہے اور اسی وجہ سے وہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہم دنیا سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے میں ہماری مدد کرے۔ میرے خیال میں حکومت کو احساس ہے کہ ملک کی معاشی صورت حال بہت بری ہے۔ اس لیے وہ خود بھی کشیدگی کی طرف نہیں جا رہی۔‘‘

تاہم کچھ ناقدین کے خیال میں جنگی معیشت کے پہلو مختلف ہوتے ہیں اور اس کے لیے الگ سے پالیسی بنانی ہوتی ہے۔ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کے خیال میں ملک جنگ کی طرف نہیں جارہا۔ سلمان شاہ کے مطابق، ''میرے خیال میں سفارتی محاذ پر بہت کچھ ہو رہا ہے اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ خطے میں جنگ ہونے جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یقیناﹰ معیشت کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ لیکن جنگی معیشت کی پھر الگ پالیسی بنتی ہے اور اس کے معاملات مختلف ہوتے ہیں۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

 

DW.COM