کیا مکی آرتھر کو فارغ کرنے سے ٹیم بہتر ہو جائے گی؟ | کھیل | DW | 07.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

کیا مکی آرتھر کو فارغ کرنے سے ٹیم بہتر ہو جائے گی؟

پاکستان سے فارغ کیے گئے جنوبی افریقی کوچ مکی آرتھر ورلڈ کپ جیتنے والی انگلش ٹیم کے ہیڈ کوچ بن سکتے ہیں۔ لیکن پاکستانی ٹیم کو چھوڑتے ہوئے انہوں نے ’دلی تکلیف‘ کا اظہار کیا ہے۔ مسئلہ مکی آرتھر میں ہے یا کہیں اور؟

جنوبی افریقہ کے مکی آرتھر کو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ سے فارغ تو کر دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قدم پاکستانی کرکٹ کے لیے کس قدر بہتر ثابت ہو گا؟ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کھیلوں کے مقابلوں میں کسی بھی ناکامی کی صورت میں کوچنگ اسٹاف زیر عتاب آتا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ اور ہاکی جیسے مقبول ترین کھیلوں میں ماضی میں اس طرح کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ بری کارکردگی کے بعد پورے کا پورا کوچنگ اسٹاف ہی بدل دیا گیا۔

نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کپ مقابلوں میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی بھارتی قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے مستقبل کی اچھی حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو انگلینڈ میں حال ہی میں منعقد ہوئے کرکٹ ورلڈ کپ میں ظاہری طور پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کوئی زیادہ بری نہیں تھی۔ مکی آرتھر کا بھی یہی کہنا ہے۔ آرتھر نے کہا ہے کہ انہوں نے پوری کوشش کی کہ موجودہ وسائل اور ٹیلنٹ کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے بہترین کارکردگی دکھائی جائے۔

آرتھر کے بقول پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے فارغ کیے جانے پر انہیں 'مایوسی اور رنج‘ ہوا ہے۔ آرتھر کے ساتھ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، بولنگ کوچ اظہر محمود اور ٹرینر گرانٹ لوڈن کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ احسان مانی کے مطابق نئے کوچنگ اسٹاف کی تعیناتی کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ چار رکنی کمیٹی عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد نیا کوچنگ اسٹاف چنے گی۔

ویسے یہ بات عجیب ہے کہ عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ مکمل ہونے سے قبل ہی مکی آرتھر کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ کھیلوں کی دنیا میں کسی کوچ کو صرف اس بنیاد پر فارغ نہیں کیا جاتا کہ کسی ایک خاص ٹورنامنٹ میں اس کی ٹیم ناکام ہو گئی۔ کوچنگ ٹیم چننے کے عالمی معیارات کے مطابق پرکھا جاتا ہے کہ کسی ٹیم نے مرحلہ وار اپنے طے شدہ اہداف کو کس حد تک حاصل کیا۔ اگر وہ اپنے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں ناکام ہوئی ہو، تو تبدیلی لائی جاتی ہے۔

میرے خیال میں اس مرتبہ مکی آرتھر ناکام نہیں ہوئے بلکہ ٹیم طے شدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام ہوئی۔ یہ آرتھر وہی ہیں، جو پاکستان کو ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان کروانے میں انتہائی اہم ثابت ہوئے تھے۔ تاہم تب پاکستانی ٹیم کی قیادت منجھے ہوئے کھلاڑی مصباح الحق کے ہاتھ میں تھی اور ان کے ساتھ یونس خان جیسے 'فائٹر‘ بھی تھے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مکی آرتھر ہی کی کوچنگ میں پاکستان نے انگلینڈ میں جون سن دو ہزار سترہ میں چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی۔ انہی کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آئی۔

مسئلہ مکی آرتھر میں نہیں بلکہ پاکستان میں کرکٹ کے نظام میں ہے۔ سابق کرکٹر اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں تبدیلی کے بغیر پاکستان میں اس کھیل کو پروفیشنل بنیادوں پر کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں اور احسان مانی کی قیادت میں پاکستان میں کرکٹ کے نظام میں تبدیلی کا عمل شروع بھی ہو چکا ہے۔ تاہم کرکٹ میں بھی تبدیلی کا یہ عمل ویسا ہی مایوس کن ہے ، جیسا کہ پاکستانی کے سیاسی و اقتصادی منظر نامے میں تبدیلی کا عمل۔

سوچیں ذرا! اب پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ سے فارغ کیے جانے کے بعد مکی آرتھر جب ورلڈ کپ جیتنے والی انگلش قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کریں گے تو آپ کو کیسا لگے گا؟

DW.COM