کیا مچل مارش بنیادی طور پر احمق ہیں؟ | کھیل | DW | 17.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

کیا مچل مارش بنیادی طور پر احمق ہیں؟

آسٹریلوی آل راؤنڈر مچل مارش غصے میں دیوار پر مکا مار کر اپنا ہاتھ زخمی کر بیٹھے، جس کے باعث اب وہ پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں جلوہ گر نہ ہو سکیں گے۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے اہم رکن مچل مارش ڈومیسٹک شیفیلڈ شیلڈ ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں آؤٹ ہوئے تو انہیں اپنی غلطی پر شدید غصہ آیا، انہوں نے واپس پویلین لوٹ کر اپنا غصہ نکالنے کی خاطر دیوار پر مکا دے مارا۔ دیوار کو تو کچھ نہ ہوا لیکن ان کا ہاتھ زخمی ہو گیا۔

ویسٹرن آسٹریلیا کلب کے کپتان مچل مارش اتوار کے دن تسمانیہ کرکٹ کلب کے خلاف کھیلے جانے والے ایک میچ میں 53 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے تو انہوں نے دیوار پر اپنا غصہ نکالا تھا۔ تب یہ تو واضح ہو گیا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ زخمی کر بیٹھے ہیں لیکن یہ علم نہ تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے بھی باہر ہو جائیں گے۔

مارش کے ہاتھ کا سکین کیا گیا تو پتا چلا کہ ان کے ہاتھ میں فریکچر ہو گیا ہے، ''میری مڈل فنگر پر چوٹ لگی اور فریکچر ہو گیا۔‘‘ مارش نے افسوسناک انداز میں صحافیوں کو بتایا کہ اب طبی وجوہات کی بنا پر وہ چھ ہفتوں تو کرکٹ سے دور ہی رہیں گے۔ یوں مچل مارش اکیس نومبر سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ نہ بن سکیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ جسٹن لینگر سے بات کی تو مارش نے جواب دیا، ''انہوں (لینگر) نے مجھے کہا کہ بنیادی طور پر میں احمق ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف میرے لیے بلکہ دیگر کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک سبق ہے۔‘‘

مچل مارش نے مزید کہا کہ کرکٹ ایک کھیل ہے اور اس کھیل میں کسی غلطی پر دیواروں پر غصہ اتارنا درست نہیں۔ پاکستانی ٹیم اپنے دورہ آسٹریلیا کے دوران تین ون ڈے ، تین ٹی ٹوئنٹی اور دو ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔ اس سیریز کا پہلا میچ  ٹی ٹوئنٹی  فارمیٹ کا ہو گا، جو تین نومبر کو سڈنی میں کھیلا جائے گا۔

DW.COM