کیا متحدہ عرب امارات یمن سے فوج نکال رہا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 10.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا متحدہ عرب امارات یمن سے فوج نکال رہا ہے؟

متحدہ عرب امارات یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف برسرپیکار اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی لا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یمنی تنازعے کے سیاسی حل کے لیے راہ ہم وار کرنا بھی ہے اور ایرانی امریکی کشیدگی بھی۔

سن 2015ء میں سعودی قیادت میں عرب عسکری اتحاد نے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ تاہم حوثی باغیوں کے خلاف ان عسکری کارروائیوں کا کہیں نکتہ انجام دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب یمن میں القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند بھی بدستور موجود ہیں۔

حوثی ملیشیا کے ڈرون کے گودام پر سعودی اتحاد کا حملہ

’جرمنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو ہتھیار برآمد کر رہا ہے‘

متعدد میڈیا رپورٹوں سے واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اب سعودی قیادت میں عرب اتحاد میں اپنی شمولیت پر نظرثانی کر رہی ہے۔ رواں ہفتے متحدہ عرب امارات کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ابوظہبی حکومت یمن میں متعدد مقامات سے اپنے فوجی واپس بلا رہی ہے، جس میں حدیدہ کا بندرگاہی شہر بھی شامل ہے۔

واشنگٹن میں مشرقِ وسطیٰ پالیسی سے متعلق ایک تھنک ٹینک کے مطابق یمن میں اماراتی فورسز اپنے زیرقبضہ علاقوں کا کنٹرول خصوصی تربیت یافتہ فورسز کے سپرد کر رہی ہے اور اریٹریا میں اپنے فوجی اڈے سے اپنے دستے بھی واپس بلا رہی ہے۔ اسی فوجی اڈے سے یمن میں عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اماراتی حکومت یمن سے اس فوجی انخلا کا دفاع اس موقف کے ساتھ کر رہی ہے کہ جنوبی یمن میں اس کی عسکری مداخلت کے زیادہ تر اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔ ابوظہبی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوں کہ اقوام متحدہ اب اس تنازعے کے حل کے لیے سرگرم ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ عسکری کارروائیوں کو محدود کیا جائے۔

تاہم دوسری جانب ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس فوجی انخلا کی وجہ بالکل مختلف ہے۔ بین الاقوامی کرائسس گروپ کے خلیجی خطے سے متعلق  امور سے وابستہ سینیئر ماہرایلیزبتھ ڈیکنسن کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمنی تنازعے میں اپنی عسکری مداخلت کے لیے دو اہداف رکھے تھے، جن میں سے ایک حوثی باغیوں سے لڑائی تھی اور دوسرا شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی، جب کہ ان شدت پسند گروہوں میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں سے لے کر اخوان المسلمون سے وابستہ افراد بھی تھے، تاہم اب ابوظہبی حکومت یہ جان چکی ہے کہ یہ اہداف بے حد وسیع ہیں۔ ڈیکنسن  کے مطابق متحدہ عرب امارات میں یہ سوچ بھی پیدا ہو چکی ہے کہ امارات فقط سعودی عرب کی وجہ سے اس تنازعے کا بلاوجہ حصہ بن گیا۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں بھی متحدہ عرب امارات کی حکومت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی فوج کو یمن سے نکالنا چاہتی ہے۔

کیرسٹن کنِپ، ع ت، الف ب الف

DW.COM