کیا فوکس ویگن نے بھارتی وزیر کو رشوت دی تھی؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا فوکس ویگن نے بھارتی وزیر کو رشوت دی تھی؟

 فوکس ویگن گروپ کے سویڈش ٹریک برینڈ ’اسکینیا‘ کی طرف سے بھارت میں بسوں کے لیے کانٹریکٹ حاصل کرنے کی خاطرافسران اور سیاسی لیڈروں کو رشوت دینے سے متعلق اسکینڈل کی چھان بین متعدد ایجنسیاں کررہی ہیں۔

تفتیشی ایجنسیاں ٹرک تیار کرنے والی کمپنی اسکینیا اور بھارت کے وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے ایک قریبی رشتہ دار کی ملکیت والی کمپنی کے درمیان مبینہ رشوت کے لین دین کی چھان بین کررہی ہیں۔ لیکن نتین گڈکری کے دفترنے اس الزام کو''بدنیتی پر مبنی، من گھڑت او ر بے بنیاد" قرار دیا ہے۔

جرمنی کے فوکس ویگن گروپ سے منسلک کمپنی اسکینیا کے خلاف الزامات کا انکشاف سویڈن کے ایک ٹی وی چینل ایس وی ٹی نے کیا ہے۔ چینل نے اپنے ایک پروگرام میں بتایا کہ کمپنی نے سن 2013 سے سن 2016 کے درمیان بھارت میں بسوں کے لیے کانٹریکٹ حاصل کرنے کے خاطر کئی اعلی عہدیداروں اور سیاسی رہنماؤں کو رشوت دی تھی۔ چینل نے بتایا کہ ای میل، ٹیکسٹ میسیج، دستاویزات اور بعض افراد کے بیانات میں ان الزامات کے ثبوت ملے ہیں۔

اسکینیا نے ان الزامات کو تسلیم بھی کرلیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او  ہینرک ہینرکسن نے ٹی وی چینل سے کہا کہ کمپنی کے داخلی سسٹم کو '’اس سلسلے میں چوکنّا کردینا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوانہیں کیونکہ بھارت میں کمپنی کے سینیئر افسران نے سسٹم کو ناکام کردیا۔" 

 ٹی وی چینل ایس وی ٹی کے مطابق اسکینیا کی داخلی جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بھارت کی سات ریاستوں میں بسیں سپلائی کرنے کا کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے پیسے ادا کیے گئے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 01:57

کیا ’میڈ ان جرمنی‘ کا لیبل خطرے میں ہے؟

اسکینیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جن منیجروں کا اس سلسلے میں نام لیا گیا ہے وہ اب کمپنی چھوڑ چکے ہیں اور اسکینیا نے بھی اب بھارت میں بسیں فروخت کرنا بند کردیا ہے۔

جرمنی میں براؤن شوائیگ شہر کے محکمہ استغاثہ نے رشوت دینے کے الزامات کی ابتدائی تفتیش شروع کردی ہے۔ بہر حال ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ الزامات ثابت کرنے کے لیے خاطر خواہ ثبوت ہیں یا نہیں۔

'الزامات بے بنیاد‘

بھارتی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے دفتر نے رشو ت لینے کے الزامات کو''بدنیتی پر مبنی، من گھڑت او ر بے بنیاد" قرار دیا ہے۔

سویڈش نیوز چینل ایس وی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے ”سن 2017 کے اواخر میں اسکینیا کے آڈیٹروں کو پتہ چلا کہ اسکینیا نے بھارتی وزیر ٹرانسپورٹ کو ایک خصوصی طورپر ڈیزائن کردہ 'لگژری بس‘ تحفے میں دی تھی۔ بھارتی وزیر کو تحفے میں بس دینے کا مقصد بھارت میں کانٹریکٹ حاصل کرنا تھا۔"

بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق مذکورہ 'لگژری بس‘  نتین گڈکری کی بیٹی کی شادی میں استعمال کی گئی تھی۔ تاہم نتن گڈکری کے دفتر نے اسے 'میڈیا کا تخیل‘ قرار دیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس شادی میں مہمانوں کے لیے 'پچاس چارٹرڈ فلائٹس‘ کا استعمال کیا گیا تھا لیکن بھارتی وزیر نے اسے بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔

بھارتی وزیر ٹرانسپورٹ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ” بسوں کی خریدوفروخت سے نتن گڈکری کے خاندان کے کسی فرد کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نا ہی ان کا کسی ایسی کمپنی یا فرد کے ساتھ کوئی تعلق ہے جو بسوں کی خریدو فروخت میں شامل رہا ہو۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں ” نتن گڈکری اور ان کے خاندان کے نام کو شامل کرنا انتہائی افسوس ناک اور ان کے خلاف ناپاک اور بدنیتی پرمبنی مہم کا حصہ ہے اور اس کا مقصد وزیر موصوف کو بدنام کرنا ہے۔"

DW.COM

Audios and videos on the topic