کیا فرانسیسی جزیرہ عالمی ڈیجیٹل ہب بننے جا رہا ہے؟ | سائنس اور ماحول | DW | 07.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کیا فرانسیسی جزیرہ عالمی ڈیجیٹل ہب بننے جا رہا ہے؟

بحرہند میں واقع فرانسیسی جزیرہ ری یونین مستقبل میں عالمی ڈیجیٹل مراکز میں سے ایک بن سکتا ہے۔ اس طرح اس جزیرے پر بے روزگاری کی شرح میں بھی کمی ہو گی۔

بحرہند میں واقع فرانسیسی جزیرہ ری یونین اپنے ہرے بھرے مناظر اور دلکش ساحلوں کی وجہ سے مشہور ہے اور اس جزیرے کا تقریباﹰ 42 فیصد یونیسکو کی عالمی ورثے کے فہرستوں میں شامل ہے۔ مگر یہ جزیرہ جلد ہی ایک نئی شناخت سے جانا جائے گا۔ ایک بین الاقوامی کنسوریشن منصوبے کی بنا پر، جو اس جزیرے کو عالمی ڈیجیٹل مراکز میں سے ایک میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس منصوبے کی وجہ سے اس جزیرے پر بے روزگاری کی شرح بھی ضرور کم ہو سکتی ہے۔

بھارتی حکومت کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کر رہی ہے؟

دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کی دوڑ، چین سب سے آگے

اس منصوبے کا پہلا مرحلہ گزشتہ برس موسم بہار میں مکمل ہوا۔ پہلے مرحلے میں ایک انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ تار کے ذریعے اس جزیرے کو مدغاسکر، موریشس اور جنوبی افریقہ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہ تار 24 ٹیرابائٹ صلاحیت کی حامل ہے اور ری یونین جزیرے کے دنیا سے رابطوں کے موجود نظام سے 24 گنا تیز رفتار ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں اس جزیرے سے تعلق رکھنے والی کمپنی اوشنڈ گروپ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ناصر غلام علی نے بتایا کہ اب ری یونین جزیرے پر موجود انٹرنیٹ کی رفتار فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے تقریباﹰ برابر ہے۔ اوشینڈ ہی کی ایک ذیلی کمپنی زیوپ نے ماتیس نامی انٹرنیٹ کیبل کے لیے پانچ ملین یورو خرچ کیے ہیں۔ اس پروجیکٹ میں دیگر کمپنیوں نے بھی حصہ ڈالا ہے اور یوں مجموعی طور پر ایک سو بیس ملین یورو کی لاگت سے ایک اور تار کے ذریعے اس جزیرے کو بھارت سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔

غلام علی نے بتایا کہ اب کئی بہت بڑے ڈیٹا سینٹرز اس جزیرے پر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ''ہمیں امید ہے کہ  مختلف کمپنیاں یہاں ایک ارب یورو کی سرمایہ کاری کریں گی، جب کہ متعدد سرمایہ کاروں سے ہم بات چیت میں مصروف ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:48

جرمنی میں ڈیجیٹل لٹریسی

غلام علی کے مطابق اس وقت امریکا میں دو اور ایشیا میں بھی دو ڈیٹا سینٹرز ہیں جب  کہ ایک جنوبی فرانسیسی شہر مارسیلے میں قائم ہے، تاہم بحر ہند کے بیچ و بیچ ایسے کسی سینٹر کے لیے جگہ موجود ہے۔ ''ظاہر ہے بحرہند میں واقعہ یہ جزیرہ یورپ کا حصہ ہے۔‘‘

ایسوسی ایشن ڈیجیل ری یونین انڈسٹری کے چیرمین سٹیفان کولومبیل کے مطابق، یہ جزیرہ پہلے ہی انٹرنیٹ کمپنیوں کی نظر میں ہے۔ بہت سے سرمایہ کار اس جزیرے پر سرمایہ کاری کے حوالے سے ہم سے رابطے کر رہے ہیں۔‘‘

نو لاکھ نفوس کے جزیرے پر بے روزگاری کی شرح 18 فیصد نے جو فرانس کی قومی اوسط سے تقریبا دوگنی ہے، تاہم کہا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل مرکز بننے کے بعد اس جزیرے پر بے روزگاری کی شرح میں قدرے کمی آئے گی۔

لیزا لوئس (ع ت، ب ج)

ملتے جلتے مندرجات