کیا جرمنی خلیج فارس میں فوج نہ بھیجنے کے فیصلے پر قائم رہ پائے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 28.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا جرمنی خلیج فارس میں فوج نہ بھیجنے کے فیصلے پر قائم رہ پائے گا؟

جرمن حکومت پر خلیج فارس میں یورپی بحری مشن میں اپنی فوج بھیجنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یورپی بحری مشن بھیجنے کی تجویز برطانیہ نے گزشتہ پیر کے روز دی تھی، تاہم اب تک برلن حکومت اس مشن سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے۔

برطانیہ نے جبرالٹر میں ایک ایرانی بحری جہاز کو غیر قانونی طور پر خام تیل شام لے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحویل میں لے رکھا ہے۔ ایران نے اس عمل کو 'قزاقی‘ قرار دیا۔ پھر ایران نے برطانوی پرچم والے ایک آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان واقعات کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی مسلسل جاری ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے برطانیہ نے تجویز دی کہ خلیج فارس میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے یورپی بحری مشن روانہ کیا جانا چاہیے۔

جرمنی کہاں کھڑا ہے؟

جرمنی نے ابھی تک خلیج فارس میں اپنی بحری فوج بھیجنے سے نہ تو انکار کیا ہے اور نہ ہی اس کی حامی بھری ہے۔ جمعرات کے روز جرمنی کی نئی وزیر دفاع آنے گریٹ کرامپ کارنباؤر نے بھی اس بات کا عندیہ دیا کہ ایرانی ساحلوں کے قریب یورپی بحری مشن میں جرمنی کی شمولیت ممکن ہے۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ ابھی ایسا کوئی بھی منصوبہ بالکل ابتدائی سطح پر ہے۔ جمعے کے روز فنکے میڈیا گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے ہائیکو ماس نے کہا، ''جرمنی مشن میں حصہ لے گا نہیں اس کا فیصلہ تبھی کیا جا سکتا ہے جب اس مشن کی شکل واضح ہو گی۔‘‘ انہوں مزید کہا کہ جرمنی یہ جاننا چاہتا ہے کہ یہ مشن یورپی یونین کی نگرانی میں ہو گا، اقوام متحدہ کی یا کسی اور بین الاقوامی تنظیم کی اور یہ کہ کیا اس بحری مشن کو کسی جنگ کے لیے بھی تیار ہونا ہو گا۔

ماس نے یہ بھی تصدیق کی کہ انہوں نے اس ضمن میں اپنے نئے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے بھی گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی چاہتا ہے کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی مل کی ایک مشترکہ فیصلہ کریں جو امریکا کے اختیار کردہ راستے سے مختلف ہو۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت پابندیوں سمیت کئی دیگر طریقوں سے دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا، ''ہم زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘‘

Karte Tanker angeschossen Golf von Oman EN

جرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں بھی اس حوالے سے متضاد آرا رکھتی ہیں۔ چانسلر میرکل کی جماعت سی ڈی یو یورپی بحری مشن میں جرمن بحریہ کی شمولیت کی حامی ہے لیکن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایسے کسی بھی عمل کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ ایس پی ڈی کے عبوری شریک سربراہ رولف مٹزینش نے اتوار کے روز ایک مقامی اخبار سے گفتگو میں کہا، ’’ایسے خطے میں اپنی فوج بھیجنا، جہاں نئی جنگوں کے خطرات منڈلا رہے ہوں، کیا یہ سمجھدارانہ اقدام ہو گا۔‘‘

دوسری جانب امریکا میں جرمنی کے سابق سفیر اور میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موجودہ سربراہ وولف گانگ اشینگر نے بھی آج اتوار کے روز خلیج فارس کے یورپی بحری مشن میں جرمنی کی شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے اسے جرمنی کی 'اخلاقی ذمہ داری‘ قرار دیا۔ اشینگر کا کہنا تھا کہ 'جرمنی سے زیادہ کوئی دوسرا ملک آزادانہ بین الاقوامی شپنگ پر انحصار نہیں کر رہا‘ اس لیے جب خلیج فارس میں دفاعی مشن کی بات ہو رہی ہو تو جرمنی کو اس بات کو 'کونے میں بیٹھ کر‘ نہیں دیکھنا چاہیے۔

ش ح / ع ح (بیجمن نائٹ)

DW.COM