کیا بھارت میں بی جے پی کی کامیابی کا سلسلہ تھم سکے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 17.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا بھارت میں بی جے پی کی کامیابی کا سلسلہ تھم سکے گا؟

بھارتی ریاست کرناٹک میں وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپا کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے قیام کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا لیکن یہ سچ اپنی جگہ ہے کہ ہندو قوم پسند بی جے پی بھارت کی ملک گیر سیاسی طاقت ہے۔

بھارت میں سیاسی اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے ماہرین کے لیے یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کے 75 فیصد رقبے اور 68 فیصد آبادی پر آج بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی یا اس کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت ہے۔

بھارتی ریاست کرناٹک میں بی جے پی سرفہرست

بھارت کے تمام دیہات کو بجلی پہنچا دی گئی، حکومتی دعویٰ
جنوبی صوبے کرناٹک میں حکومت کی تشکیل کے لیے جاری جوڑ توڑ کے دوران بدھ سولہ مئی اور جمعرات سترہ مئی کی درمیانی رات نصف شب کے وقت ملکی سپریم کورٹ نے یدیورپا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کاحلف لینے کی اجازت دے دی، جس کے بعد انہوں نے آج جمعرات سترہ مئی کی صبح کرناٹک کے پچیسویں وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

Indien Narendra Modi in Neu-Delhi

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی

یدیورپا کی جماعت ایک سو چار سیٹوں کے ساتھ ریاستی پارلیمان میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی جب کہ 222 رکنی اسٹیٹ اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے کم از کم بھی 112اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ دوسری طرف الیکشن کے بعد بننے والے کانگریس پارٹی اور جنتا دل کے سیکولر اتحاد نے ایک سوسولہ اراکین کی حمایت کے ساتھ اپنے حکومت سازی کے حق کا دعویٰ کیا لیکن صوبائی گورنر واجو بھائی والا نے یہ دعویٰ مسترد کردیا، جس کے بعد ان پارٹیوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
کرناٹک میں حکومت سازی کا تنازعہ اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت بھارت کے انتیس میں سے اکیس صوبوں میں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے کی حکومت ہے، جن میں سے پندرہ صوبوں میں تو وزرائے اعلیٰ بھی اسی پارٹی کے ہیں۔ 2014ء میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالاتھا تو صرف سات صوبوں میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور بی جے پی کے صرف چار وزرائے اعلیٰ تھے۔ 2014ء کے بعد سے اب تک بائیس صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں، جن میں این ڈی اے کو پندرہ صوبوں میں کامیابی حاصل ہوئی اور بی جے پی کو مزید گیارہ ریاستوں میں وزرائے اعلیٰ کے عہدے مل گئے۔

Indien Rahul Gandhi in Mehsana

کانگریس پارٹی کے صدر راہول گاندھی

پچھلے چار سال کی مدت میں بی جے پی کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی خود کو اپنے کارکنوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے۔ گوکہ 2014ء میں عام انتخابات کے دوران نریندر مودی نے جو وعدے کیے تھے، ساڑھے چار برس گزر جانے کے باوجود ان میں سے شاید ہی کوئی بڑا وعدہ پورا ہوا ہو اور ’نوٹ بندی‘، نیا ٹیکس نظام جی ایس ٹی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کی وجہ سے عوام کی پریشانیاں بڑھی ہیں تاہم بی جے پی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی ہے کہ اس کی حکومت بدعنوانیوں سے پاک ہے جب کہ مرکز میں سابقہ کانگریسی حکومت بدعنوانیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔

بی جے پی عوام کو یہ باور کرانے میں بھی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملکی ترقی کے لیے ہمہ تن کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2014ء کے بعد سے جتنے بھی اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں، وہ بی جے پی نے اپنے  مقامی رہنماؤں کے بجائے مودی کے نام پر ہی لڑے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بی جے پی کی کامیابی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت کا راز اس کی زبردست تنظیمی طاقت میں پنہاں ہے۔

بی جے پی کے سینیئر رہنما یشونت سنہا نے پارٹی چھوڑ دی

گجرات فسادات: مودی کی قریبی ساتھی کو بری کر دیا گیا
بھارتیہ جتنا پارٹی دیگر جماعتوں کے برعکس خود کو صرف الیکشن کے دنوں میں ہی نہیں بلکہ ہر وقت سرگرم رکھتی ہے۔ اس کے کارکن سال بھر عوام سے رابطہ رکھتے ہیں۔ اس کام میں اس جماعت کی مربی ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس بھی اس کی بھرپور مد د کرتی ہے، جس کے مقامی یونٹوں کا جال ملک کے گاؤں گاؤں تک میں پھیلا ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی اگرچہ دلتوں، پسماندہ برادریوں اور قبائلیوں کی عظیم شخصیات کے نظریات کی ہمیشہ مخالف رہی ہے تاہم اس نے ان رہنماؤں کو خود سے جوڑنے کا ڈھنڈورا پیٹ کر بھارت میں ہندوؤں کی آبادی کے تقریباً پچاسی فیصد حصے کو اپنے دام میں لے لیا ہے۔
کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت بھار ت میں بی جے پی مخالف جماعتوں میں اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ بی جے پی کی مسلسل فتح کی رفتار کو روکنے میں صرف اسی وقت کامیابی مل سکتی ہے جب کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اپنی اپنی انا کو ترک کر کے متحد ہو جائیں۔ اس سلسلے میں اب تھوڑی بہت پہل ہوئی بھی ہے۔

 'رمضان میں کشمیری علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن بند‘

بھارت میں ہر سال ڈھائی لاکھ بچیوں کی موت، وجہ جنسی امتیاز
اس حوالے سے سابق مرکزی وزیر اور جنتا دل یونائیٹڈکے سابق قومی صدر شرد یادو نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ 2019ء میں ہونے والے عام انتخابا ت سے قبل ملکی اپوزیشن میں اتحاد ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں اس سلسلے میں کوششیں کر رہا ہوں۔ میں نے کانگریس کے صدر راہول گاندھی سے بھی بات کی ہے۔ سانجھی وراثت کے نام سے ہم نے تمام اپوزیشن جماعتو ں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی ہے اور پچھلے دس ماہ میں اس کی چار ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔‘‘

شرد یادو کا کہنا تھا، ’’اپوزیشن اتحاد مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہیں اور گورکھ پور، پھول پور اور گرداس پور کے حالیہ ضمنی پارلیمانی انتخابات نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ اگر اپوزیشن متحد ہو جائے، تو بی جے پی کو شکست دینا مشکل نہیں ہے۔‘‘ خیال رہے کہ گورکھ پور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا روایتی پارلیمانی حلقہ تھا، جہاں بی جے پی گزشتہ پچیس برسوں سے کامیاب ہوتی چلی آرہی تھی۔

بھارت: چار ماہ کی بچی کا ریپ کے بعد قتل، ملزم کو سزائے موت

بھارت کی انتہائی مقروض قومی ایئر لائن، کوئی خریدار ہی نہیں
شرد یادو کہتے ہیں، ’’ملکی عوام میں مودی حکومت کے کام کاج کے حوالے سے بھی بہت غصہ پایا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ ملک گیر بھارت بند کے ذریعے دلتوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنا غصہ ظاہر کیا تھا۔ کسا ن بھی ملک کے مختلف حصوں میں حکومت کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں اور مزدور بھی حکومت کے کام اور پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی کا مرکز میں اقتدار سے باہر ہو جانا طے ہے۔‘‘

DW.COM