کیا بریلوی سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 29.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا بریلوی سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں؟

پاکستان میں تحریک لیبک یا رسول اللہ کے دھرنے سے ملک کے کئی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بریلوی مکتبہء فکر کے لوگ اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بریلوی جماعتوں کی سرگرمیاں بھی اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ یہ مکتبہء فکر دیوبندیوں کی طرح ملک کی پارلیمنٹ میں سیاسی نمائندگی چاہتا ہے۔ کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بریلوی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ ملک میں اکثریت رکھنے کے باوجود سیاسی طاقت حاصل کیوں نہیں کر پا رہے؟
جمعیت علماء پاکستان کے رہنما قاری زوار بہادر نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’امریکا اور سعودی عرب نے کچھ خاص مقاصد کے لئے دیوبندیوں کی جماعتوں اور جہادی گروپوں کی حمایت کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے دنیا میں بدنام ہوا۔ اس کے علاوہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی دیوبندیوں کی ریاست نے کھل کر سر پرستی کی۔ آج ملک میں تقریبا پینتیس ہزار کے قریب رجسٹرڈ مدرسے ہیں، جس میں آدھے سے زیادہ دیوبندیوں کے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ریاست نے ان کی کھل کر مدد کی۔‘‘

پاکستان: قران کی تعلیم لازمی لیکن ترجمے پر اختلافات ابھی سے
ان کا کہنا تھا کہ بریلویوں میں یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ان کے پاس سیاسی طاقت کیوں نہیں ہے لیکن اس کا پس منظر بھی سمجھنا چاہیے،’’ہمارے اکابرین نے پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا لیکن بعد میں وہ مسجدوں اور خانقاہوں میں واپس چلے گئے۔ دیوبندی تقسیم ہند سے پہلے ہی کانگریس کا حصے تھے اور وہ سیاسی طور پر ہم سے زیادہ متحرک تھے۔ پھر پاکستان میں ان کو سر پرستی بھی مل گئی۔ ستر کی دہائی میں مولانا نورانی نے بریلویوں کے مختلف دھڑوں کو متحد کیا اور اب بھی یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ان دھڑوں کو متحد کر کے مشترکہ طور پر کوئی حکمتِ عملی بنائی جائے اور سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘


تحریک لیبک یا رسول اللہ کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ’’کامیاب دھرنے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم اگر متحد ہو جائیں تو پھر ہم سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہے۔ ہم نے پہلے بھی دو حلقوں میں اپنی موجودگی ظاہر کی ہے اور وہ بھی بہت کم وقت کے نوٹس پر۔ اب ہم دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے لئے بھر پور تیاریاں کر رہے ہیں۔ ہماری تنظیم کے سارے شعبوں کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ اچھی ساکھ رکھنے والے افراد کو ہم انتخابات میں متعارف کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جو اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نون لیگ کے کئی ارکان ان سے رابطہ کر رہے ہیں،’’ آنے والے وقت میں ہم اس ملک میں بہت بڑی سیاسی قوت بن کر ابھریں گے۔ ہم پورے ملک سے انتخابات لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اس کے لئے بھرپور سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔‘‘
سنی تحریک کے رہنما مولانا طاہر چشتی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس دھر نے کی وجہ سے بریلویوں میں بہت بیداری پیدا ہوئی ہے اور ہمارے کئی ناقدین حیران بھی ہوئے ہیں۔ اس دھرنے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آنے والی پارلیمنٹ میں اب بریلوی جماعتوں کے اچھے خاصے افراد پہنچے گے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔‘‘
پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ڈاکڑ امان میمن کے خیال میں ریاست اپنی پالیسی بدل رہی ہے،’’پہلے ریاست نے وہابیوں اور دیوبندیوں کی سر پرستی کی لیکن وہ سر پرستی خارجہ پالیسی کے مقاصد سے متعلق تھی لیکن اب ریاست بریلویوں کی سر پرستی کرنے جارہی ہے، جس کے مقاصد اندرونی ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ نون لیگ کو کمزور کیا جائے۔ نون لیگ نے خود بھی بہت بزدلی کا مظاہرہ کیا اور آنے والے انتخابات میں ان کا ووٹ بینک کم ہوگا۔ بریلوی جماعتیں ان کے ووٹ بینک کو دھچکا لگائیں گی۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ بریلوی سیاسی اسپیس چاہتے ہیں لیکن انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے، وہ انتہائی خطرنا ک ہے۔ اس سے ملک میں فرقہ واریت بڑھے گی اور سیاست فاشزم کا شکار ہو جائے گی۔ اس سے ملک کی وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘‘

DW.COM

اشتہار