کیا ایل ایس ڈی گولیوں سے انسان مزید ذہین ہو جاتا ہے؟ | صحت | DW | 01.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کیا ایل ایس ڈی گولیوں سے انسان مزید ذہین ہو جاتا ہے؟

ایل ایس ڈی مائیکرو ڈوز سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا امریکا میں یہ ایک نیا رجحان ہے۔ کیا واقعی یہ ’جادوئی دوا‘ انسانی ذہانت میں اضافہ کر دیتی ہے اور کیا ان ’معجزاتی گولیوں‘ کے منفی اثرات بھی ہیں؟

یہ ’جادوئی دوا‘ امریکا کی کاروباری شخصیت پاؤل آسٹن نے دریافت کی ہے۔ ان کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ایل ایس ڈی کھانے کے پینتالیس منٹ بعد مجھے بہتری محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ میرے لیے مسکرانا اور توجہ مرکوز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ میرے لیے نئے منصوبوں پر کام کرنا، لکھنا آسان ہو جاتا ہے، نئے خیالات تیزی سے جنم لیتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے لیے یہ عام طور پر چیزوں کو آسان بنا دیتی ہے۔‘‘

ایل ایس ڈی کی ایک خوراک صرف چھ سے بیس مائیکروگرام کی ہوتی ہے۔ دماغی صلاحیتیوں کو تیز کر دینے والی اس دوائی کے مالک پاؤل آسٹن امریکا بھر میں مشہور ہیں۔ کیا یہ صرف امریکی رجحان ہے؟ ایسا لگتا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ایسے افراد موجود ہیں، جن کو یہ ڈرگ اچھی لگتی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک جرمن خاتون کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’میں نے اسے استعمال کیا ہے، یہ زبردست ہے۔‘‘ اسی طرح ایک دوسرے یورپی صارف نے بتایا، ’’میں یہ گولیاں مزید باصلاحیت ہونے کے لیے نہیں بلکہ خوشی کے لیے لیتا ہوں۔‘‘ ایک خاتون کا اپنی رائے دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’میرا دماغی کام زیادہ ہے، اس لیے میں اسے آزمانا چاہتی ہوں۔‘‘

Albert Hofmann, schweizer Chemiker, Autor und der Entdecker des LSD (picture-alliance/dpa/Novartis)

 دماغی صلاحیت بڑھانے کی تلاش نئی نہیں ہے

 دماغی صلاحیت بڑھانے کی تلاش نئی نہیں ہے۔ یہ کہانی دوسری عالمی جنگ سے شروع ہوتی ہے۔ جرمن فوجیوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیروینٹین کے نام سے ایمفیٹامین کی گولیاں تیار کی گئی تھیں۔ ان کا مقصد فوجیوں کو باصلاحیت اور چاق وچوبند بنانا تھا۔ اسی دور میں لاکھوں شہریوں نے بھی اسی طرح کی گولیوں کا استعمال شروع کر دیا تھا، جن کی تیاری میں ایمفیٹامین نامی کیمیکل استعمال ہوتا تھا۔

اس وقت ایسی گولیوں کے استعمال کی وجہ سے متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں جبکہ ان کے منفی اثرات کی وجہ سے ستر کی دہائی میں سوئٹزرلینڈ میں اس کی کھلے عام فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی۔

آج ایسی ادویات کی تعداد کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ایمفیٹامین اور ایل ایس ڈی کے ساتھ ساتھ ’بیٹا بلاکر‘ اور چاق وچوبند رہنے کی خاطر موڈافینیل جیسی گولیاں موجود ہیں۔ ان میں سے مشہور ترین ریٹالین ہے۔

دوسری جانب ماہر نفسیات بورس کوئیڈنو جیسے ماہرین کی رائے میں ایک فیصد سے بھی کم لوگ ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال خطرے سے خالی نہیں۔

برلن: پارٹیاں کرنے والے نصف افراد ایمفیٹامینز استعمال کرتے ہیں

 زیورخ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات بورس کا کہنا تھا، ’’جب بھی کوئی مادہ لیا جائے تو اس کے نتائج متضاد ہوتے ہیں۔ اس طرح جنسی خواہشات میں اضافے یا چاق و چوبند رہنے کی صلاحیتوں میں تو اضافہ کر لیا جاتا ہے لیکن کئی دیگر صلاحتیں خراب ہو جاتی ہیں۔‘‘

دماغی صلاحیت بڑھانے والی ادویات دماغ کے خلیات کے درمیان قدرتی مواصلات کے عمل میں مداخلت کرتی ہیں۔ اس دوران نیورو ٹرانسمیٹرز کے بہاؤ میں ردو بدل کیا جاتا ہے۔ یہ اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے کا عمل تیز کر دیتے ہیں۔ اس طرح دماغی سرگرمیوں میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن ان کے نقصانات بھی ہیں۔ بورس کہتے ہیں،’’میں کسی کو بھی ایل ایس ڈی استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا، چاہے وہ تھوڑی ہی مقدار میں کیوں نہ ہو۔‘‘

آسان لفظوں میں دماغی صلاحیتیوں میں اضافے کے لیے ابھی تک کوئی بھی مثالی دوا دریافت نہیں ہوئی ہے۔ بورس جیسے ماہرین نفسیات کے مطابق ایسی ادویات سے بہتر ہے کہ کافی کا ایک کپ پی لیا جائے۔

DW.COM