کیا امریکا کی طرف سے امداد میں کٹوتی پر پاکستان پریشان ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 05.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا امریکا کی طرف سے امداد میں کٹوتی پر پاکستان پریشان ہے؟

امریکا کی طرف سے پاکستان کی امداد روکے جانے پر بظاہر حکومت اور فوج پریشان نظر نہیں آتے۔ دوسری جانب ماہرین کا بھی یہ ہی خیال ہے کہ پاکستان پر اس کٹوتی کا کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یکم جنوری کو اپنی ٹوئیٹ کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ واشنگٹن نے بڑے پیمانے پر اسلام آباد کی مدد کی ہے لیکن پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ کردار ادا نہیں کیا، جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ آج دفترِ خارجہ نے امداد روکے جانے پر ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں امریکا کو یاد دلایا گیا ہے کہ القاعدہ کو ختم کرنا پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے،’’سکیورٹی تعاون کے مسئلے پر ہم امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔ مشترکہ مقاصد پر اس فیصلے کا کیا اثر ہوگا، یہ واضح ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ لیکن اس بات کو سراہنا چاہیے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی خلاف جنگ بڑی حد تک اپنے وسائل سے لڑی اور اس کی وجہ سے اسے ایک سو بیس بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔‘‘

پاکستان میں ایک بڑے حلقے کا خیال ہے کہ اس امداد میں کٹوتی سے پاکستان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اس امریکی فیصلے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شیعب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال سے امداد میں اس کٹوتی سے ہمیں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ کوئی سات سو ملین ڈالرز کے قریب کی رقم ہیں، جس میں زیادہ تر رقوم کولیشن سپورٹ فنڈز اور ٹریننگ کی ہیں۔ بقیہ کچھ ملٹری ہارڈویئر کی ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈز اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم اس کے بغیر رہ سکتے ہیں اور اپنے وسائل سے بھی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ جہاں تک ٹریننگ کا تعلق ہے تو ہم خود گیا رہ سال سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ تو اس معاملے میں نہ صرف ہم کہن مشق ہوگئے ہیں بلکہ ہم دنیا کی ستر فوجوں کے اہلکاروں کو اس حوالے سے تربیت بھی دے رہے ہیں۔ ملٹری ہارڈ ویئر ہمارے لئے مسئلہ ہو سکتا ہے لیکن اس کو بھی خفیہ طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم ترکی اور دوسرے ممالک سے یہ ہارڈ ویئر لے سکتے ہیں۔ اس لئے میرے خیال میں اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘

قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسر ڈاکڑ ظفر جسپال بھی جنرل امجد کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس سے پاکستان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، ’’لیکن میرے خیال میں دہشت گردی کے خلاف ہمارے جو موجودہ آپریشن ہیں ان پر تھوڑا بہت فرق پڑے گا۔ جو ملٹری امدادکی مد میں امریکا ہمیں فنڈز دیتا تھا اس سے تو ہم امریکا کے ہی ہتھیار خریدتے تھے۔ میرا نہیں خیال کے اب پاکستان بہت زیادہ امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے کیونکہ اب ہم خود بھی بہت سار ے ہتھیار بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چین سے بھی ہتھیار لے رہے ہیں۔ تو اس کٹوتی کا کوئی خاص نقصان پاکستان کو نہیں ہوگا۔‘‘
ماہرِ معاشیات شاہد محمود کے خیال میں اس طرح کی کٹوتیاں ماضی میں پاکستان کو متاثر کرتی تھیں کیونکہ ہمارا امریکا پر بہت زیادہ انحصار ہوا کرتا تھا،’’لیکن اب صورتِ حال مختلف ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں بالعموم اور گزشتہ پانچ سالوں میں بالخصوص چین نے متعدد مواقع پر ہماری مدد کی ہے اور ہمیں مختصر مدت کے لئے قرضے دیے ہیں۔ چین پہلے ہی وہ ملک ہے جس نے پاکستان کو سب سے زیادہ سافٹ لون دیے ہیں۔ امریکا ہمارے لئے اس وقت مسائل کھڑے کر سکتا ہے جب ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے لیکن اس صورت میں بھی ہم چین سے مدد طلب کر سکتے ہیں۔ بیجنگ ہماری مدد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ ہر صورت میں ون بیلٹ ون روڈ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان اس روڈ پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔‘‘

اشتہار