کیا امریکا میں ہم جنس پسند صدر منتخب ہو سکتا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 21.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا امریکا میں ہم جنس پسند صدر منتخب ہو سکتا ہے؟

امریکا میں اگلے برس کے صدارتی انتخابات کے لیے انتخابی مہم ابھی پارٹیوں کے اندر جاری ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ریاستوں میں پارٹی انتخابات کا سلسلہ اگلے برس کے اوائل میں شروع ہو گا۔

امریکا کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی الیکشن کا امیدوار بننے والے دس امیدواروں کی فہرست میں ایک نام پیٹ بوٹے جج کا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ہم جنس پسند ہیں اور انہوں نے ایک مرد چیسٹن بوٹے جج سے شادی بھی رچا رکھی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے صدارتی امیدوار بننے کے اعلان کے بعد سے یہ بحث شروع ہے کہ کیا امریکی قوم اس کے لیے تیار ہے کہ کوئی ہم جنس پسند اُن کے ملک امریکا کا صدر بن جائے۔ سینتیس سالہ پیٹ بوٹے جج کی اہلیت کو انڈیانا ریاست کے شہر ساؤتھ بینڈ کے میئر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بطور میئرانہوں نے اس شہر میں عوامی مقبولیت حاصل کی اور شہری ترقی کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں، جنہیں سراہا بھی گیا۔ اُن کے پروفائل کے تناظر میں ان کے صدارتی امیدوار بننے کے حوالے سے عام امریکی شہریوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا ایک مخصوص جنسی رویے (ہم جنس پسندی) کا حامل شخص امریکا کے سب سے اہم منصب کا اہل ہو سکتا ہے۔

آئیووا ریاست میں منعقد کی جانے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے پہلے داخلی الیکشن پر نظریں ابھی سے جم چکی ہیں حالانکہ ابھی اس میں چار مہینے سے زائد کا عرصہ باقی ہے۔ اس ریاست میں پیٹ بوٹے جج نے اپنی بھرپور مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

USA TV-Debatte der demokratischen Präsidentschaftsbewerber (Reuters/J. Bachmann)

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے وہ امیدوار جو صدارتی امیدوار بننے کے لیے پارٹی نامزدگی چاہتے ہیں

آئیووا میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کی مہم کے منتظمین میں شامل پال ٹوز کا کہنا ہے کہ دنیا اس صورت حال پر یقینی طور نگاہیں جمائے ہوئے ہے اور کامیابی کی صورت میں یہ پیغام جائے گا کہ رویے اہم نہیں ہوتے بلکہ لوگ جس کو پسند کریں گے وہی امریکا کا صدر ہو گا۔

جمعہ بیس ستمبر کو سیڈار ریپڈز نامی علاقے میں منعقدہ ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) فورم میں تقریر کرتے ہوئے پیٹ بوٹے جج نے کہا کہ بطور ہم جنس پسند ہونے کے وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ اُن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے اور وہ اس جنسی رویے کی بدولت ہی اس ملک کے ساتھ ایک زوردار تعلق قائم کر سکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

آئیووا ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مختلف دس امیدواروں نے جماعتی انتخابات جیتنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس ریاست میں پہلے جماعتی الیکشن یا پرائمری (کاکیسز) کا انعقاد تین فروری سن 2020 کو ہو گا۔ آئیووا کے کئی عمر رسیدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کوئی ہم جنس پسند امیدوار کرتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔

ع ح ⁄ اا (اے پی)

DW.COM