کیا اقوام متحدہ عالمی مسائل حل کرنے کے قابل ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 24.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا اقوام متحدہ عالمی مسائل حل کرنے کے قابل ہے؟

اپنی ستّرویں سالگرہ پر اقوام متحدہ کو گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کا کام عالمی امن کو یقینی بنانا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس قابل رہی ہے کہ ایسا کر سکے؟

دہشت گردی، یوکرائن کے معاملے میں سرد جنگ، شمالی کوریا کی طرف سے مسلسل ایٹمی حملے کی دھمکیاں اور تباہ ہوتا ہوا مشرق وسطیٰ، جو مسلسل افراتفری میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ یہ چند بڑے مسائل دنیا کو درپیش اس طرح کے درجنوں مسائل کا صرف ایک حصہ ہیں۔ اگر امن کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ جیسا ادارہ نہ ہوتا تو یہ ضروری تھا کہ ایسا کوئی ادارہ تشکیل دیا جاتا۔ لیکن اقوام متحدہ کی ستّرویں سالگرہ کے موقع پر اس کی تعریف کی بجائے تنقید میں اضافہ ہوا ہے، جس کے مطابق اقوام متحدہ امن کا محافظ نہیں بلکہ ایک ایسا مہنگا کلب بن چکا ہے، جہاں صرف بحث کی جاتی ہے اور لنگڑے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے پرتعش دفاتر جنگوں اور بحرانوں سے ہزاروں میل دور ہیں۔ اس وقت اقوام متحدہ پر سب سے زیادہ تنقید شام اور مہاجرین کے بحران کی وجہ سے کی جا رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ ’’بین الاقوامی برادری کی شرمناک ناکامی‘‘ ہے۔

اقوام متحدہ میں جرمنی کے سابق سفیر ہانس ہائنرش شوماخر کے مطابق اس ’’شرمناک ناکامی‘‘ کے ذمہ دار اقوام متحدہ کے رکن ممالک خود ہیں۔ ان کے مطابق اکثر بحران زدہ صورتحال میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا جاتا ہے اور اگر کوئی قرار داد پیش کر بھی دی جائے تو بڑی طاقتیں اسے ویٹو کر دیتی ہیں۔

ہانس ہائنرش شوماخر کے مطابق اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کا ڈھانچہ قابل تنقید ہے کیونکہ اس کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کسی بھی وقت کوئی بھی قرارداد ویٹو کر سکتے ہیں اور بعض اوقات ان ممالک کی ذاتی انا کی وجہ سے بہت سے مسائل حل نہیں ہو پاتے ہیں۔ ہانس ہائنرش شوماخر کے بقول یہ ممالک کسی ایسی تبدیلی کے بھی خلاف ہیں، جس سے ان کی طاقت محدود ہوتی ہو۔ سن انیس سو نوّے سے اقوام متحدہ میں اصلاحات لانے کی بات کی جا رہی ہے اور اس پر ابھی تک بحث جاری ہے۔

اصلاحات میں ناکامی کے علاوہ اقوام متحدہ کے امدادی کارکن اور امن فوجیوں کی طرف سے کیے جانے والے جنسی حملے بھی اس ادارے کی بدنامی کی وجہ بنے ہیں۔ خاص طور پر ہیٹی، کانگو، لائبیریا اور جنوبی سوڈان میں ابھی تک اقوام متحدہ کے مشن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ماضی کی مختلف ناکامیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ ساکھ پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے اور اب نئے مسائل اس کے سر پر کھڑے ہیں۔

تاہم جرمن سفارتکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام تر تنقید اور ناکامیوں کے باوجود اقوام متحدہ کا کردار اہم ہے۔ عالمی اور علاقائی مسائل کا عالمی سطح پر حل ہونا ضروری ہے، ’’ کوئی بھی ملک تنہا ایسے مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکتا۔ عالمی مسائل کے حل کے لیے عالمی اداروں کی ضرورت ہے اور اس وقت ہمارے پاس صرف ایک عالمی ادارہ ہے اور اس کا نام اقوام متحدہ ہے۔‘‘