کچھ نہیں چاہیے، پی ڈی ایم بس لکیر سیدھی کرا دے! | دستک | DW | 04.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

کچھ نہیں چاہیے، پی ڈی ایم بس لکیر سیدھی کرا دے!

پاکستان میں ان دنوں انتخابات کا موسم نہیں ٹھنڈ پڑ رہی ہے، پھر بھی اپوزیشن جماعتوں نے اپنے جلسوں سے وہ لو چلا رکھی ہے، جس کے گرم تھپیڑے حکومتی بیٹھکوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں باریاں لگا رہی ہیں، شہر شہر منعقد جلسہ باری باری ہر جماعت، اس کی مرکزی قیادت، مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کا سیاسی امتحان ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم وقت سے قبل تبدیلی کا خواہاں ہے، آیا کہ یہ تبدیلی جمہوری عمل کے ذریعے آئے گی یا زور زبردستی، یہ حکمت عملی فی الحال واضح نہیں تاہم نعروں کی حد تک عمران خان کی رخصتی واحد مطالبہ نظر آتی ہے۔

یہ تو وہ بات ہے جو پی ڈی ایم چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام پی ڈی ایم سے کیا چاہتے ہیں؟ مہنگائی سے نجات، اپنا گھر، صحت کی سہولیات، مفت معیاری تعلیم، دس کروڑ نوکریاں، ہرا بھرا خزانہ، غربت میں کمی، بے خوف تجارتی مواقع، عوامی فلاحی منصوبے، اقوام عالم میں عزت، صوبوں کو ان کا حق، بولنے اور پر کھولنے کی آزادی، اپنی جان مال عزت کی حفاظت۔

پی ڈی ایم کے نقاد کہتے ہیں کہ یہ عوامی خواہشات کی وہ فہرست ہے، جو اپوزیشن جماعتیں برسہا برس سے حکومت میں ہوتے ہوئے پورا نہیں کر پائیں یہاں تک کہ بہت سے مسائل تو وہ ہیں، جو پیدا ہی ان جماعتوں کے ادوار میں ہوئے، صرف مائنس عمران خان تو کوئی حل نہ ہوا۔

پاکستانیوں کو پی ڈی ایم سے کسی چھومنتر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ سوچنا کہ مہنگائی ختم کرنے کو بلاول بھٹو کا جذبہ ہی کافی ہو گا یا پھر مریم نواز سخت لہجے میں کلاس مانیٹر کی طرح آرڈر جاری کریں گی توساری اسٹبلشمنٹ اور بیوروکریسی بانس کی طرح سیدھی ہو جائے گی، بے نظیر کی بیٹی آصفہ کوئی نعرہ لگائےگی اور نسل در نسل تعلیم سے محروم لوگ ڈگریاں لینے لگ جائیں گے۔

مانگنا ہے تو پی ڈی ایم سے نظریاتی تبدیلی مانگیں۔

پی ڈی ایم سے حقیقی جمہوریت مانگیں، صد بار پی ڈی ایم کا حوصلہ بڑھائیں، ان کے بازو بنیں اور ان سے پوچھیں کہ اب تک جو ہوا سو ہوا لیکن آئندہ حق حکمرانی میں وہ عوامی نمائندوں کو کتنا حصے دار بنائیں گے،کتنا حصہ خاندانی وراثت کو جائے گا اور سیاسی کارکن کس حد تک شراکت دار بنے گا؟

یہ بھی پڑھیے:

کیا موٹی لڑکیاں انسان نہیں ہوتیں؟

کچھ چرس کی حمایت میں

پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے ظاہری لباس تراش خراش، لب و لہجے، کرشماتی شخصیت، طلسماتی بول سب کو سراہیں لیکن ملک و قوم کے نام پہ لگے بدنما داغ جیسے مسائل پر ان کی رائے بھی ضرور جانیں، ان سے ممکنہ راستے پوچھیں، مسائل کے حل کے لیے ان کی فہم و فراست کیا کہتی ہے یہ پوچھیں۔ جیسے کہ حقوق بلوچستان، مسنگ پرسنز، بھارتی مداخلت، پشتون تحفظ موومنٹ، افغان پالیسی، ایران اور سعودی عرب تعلقات پالیسی وغیرہ۔

پی ڈی ایم کا ساتھ مذہبی لسانی یا صوبائی بنیاد پر نہیں سیاسی بنیاد پر دیں اور ان سے پوچھیں کہ یہ جماعتیں مذہبی کارڈ کو تو آئندہ استعمال نہیں کریں گی۔ یہ کافر وہ کافر کی صداؤں پر چپ سادھے تو نہیں رہیں گی، مذہبی یا مسلکی معاملات پر کرسی بچانے کی خاطر خاموش تماشائی نہیں بنیں گی۔

پی ڈی ایم، جو دعوے کر رہی ہے، جو وعدے دہرا رہی ہے، اسے یکسر مسترد نہیں کریں بلکہ دل مانے توان کے کاروان میں شامل ہوں اور انہیں یاد دلاتے رہیں کہ آپ پہلے بھی کئی بار بھٹک گئے، سمجھوتوں کی چادر میں چھپ گئے، وہ تجربات پھر تو نہیں دہرائیں گے؟

نوجوان تو بالخصوص سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔ جوان جن کو ن لیگ، پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور دیگر جماعتوں سے محبت ورثے میں ملی، وہ اور جنہوں نے اپنی مرضی سے پوری تسلی کے بعد ان کا انتخاب کیا وہ بھی اچھے کی امید ضرور رکھیں لیکن حقیقت پسندی کے ساتھ۔

گئے وقتوں کی ایک حکایت ہے کہ جب بچے تختی پر قلم سے لکھنے کی مشق کسی استاد کی زیر نگرانی کیا کرتے تھے، ماسٹر صاحب کئی کئی ماہ حروف تہجی کے ایک ایک حرف کو لکھواتے، حروف پکے ہو جاتے تو الفاظ بنانے اور انہیں لکھنے کی مشق ہوتی۔ ایسی صبر اور توجہ طلب مشق اور اپنے بچے کے اوتاولے ہونے کا اندازہ اماں ابا کو بھی ہوتا تھا سو وہ ماسٹر صاحب کے پاس بچہ یہ کہہ کر بٹھا دیتے تھے کہ 'ماسٹر صاحب اس کی لکیر سیدھی کرا دیں، خط آپ ہی ٹھیک ہو جائے گا‘۔

پی ڈی ایم کے کارکنوں کو اتنے ڈھیر سارے مفت مشوروں کے بعد پی ڈی ایم کا حصہ بنی ایک ایک جماعت، اس کی قیادت، پارٹی تھنک ٹینکس اور رہنماؤں کو بھی ایک مشورہ، اگر تو آپ واقعی اس قوم کا بھلا چاہتے ہیں تو اپنے اور ہمارے سیاسی نظریات کی لکیر سیدھی کرا دیں، سیاست میں در اندازی سے انکار کریں، کنگ میکرز کی آفر ٹھکرائیں، اپنے کاروباری اور خاندانی مفاد پس پشت ڈال کر عوام اور صرف عوام کی خاطر سیاست کریں، اپنے کارکنوں کو سیاسی ولولے کے ساتھ شعور بھی دیں۔

یہ لکیر سیدھی ہوگئی تو خود عوام کسی غیر جمہوری قوت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آئے اور تختی پہ لکھا خوش خط بگاڑ جائے۔