کچھ آزادیِ رائے، عالمی وبا اور گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں | دستک | DW | 16.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

کچھ آزادیِ رائے، عالمی وبا اور گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں

ارے بھئی! اب طبیعت تنگ آگئی ہے گھٹ گھٹ کے جینے سے۔ اوپر سے جب سے سرکار نے اعلان کیا ہے کہ کورونا کی ویکسین لگوا لو وگرنہ ہمارا موبائل بند کر دیں گے، یہ سن کر تو میرا تو حال برا ہو گیا۔

ارے پتا نہیں اس ویکسین میں کیا ہے؟ سنا ہے یہ بھی مغربی سازش ہے کہ ہمارے دماغ کے خلیوں سے ہماری سوچ کو نکال کر کسی کمپیوٹر میں بند کر لیں گے۔ سائنس کے ماننے والے اور سازشی نظریات پر یقین نہ رکھنے والے تو اس ویکسین کو دھڑا دھڑ لگوا رہے ہیں لیکن بھئی میں تو یہ ہر گز نہ ہونے دیتی کہ کوئی میری سوچ مجھ سے چھین لے۔

یہ تو اگر موبائل والی بات بیچ میں نہ آتی تو میں تو ویکسین کبھی نہ لگواتی۔ اب ہماری ایک ہی تو تفریح ہے موبائل، کوئی یہ بھی ہم سے چھین لے، ہمیں تو یہ بالکل بھی گوارا نہیں۔

بھئی ہم تو گھریلو ٹوٹکوں کے قائل ہیں، ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کبھی گئے ہی نہیں ڈاکٹر کے پاس نہ زندگی بھر جائیں گے، میری طرح بہت سے لوگ اس بات کو فخر سے بیان کرتے ہیں اور سنجیدہ ہونے والوں کا خوب مذاق اڑاتے ہیں۔

لیکن شائد ان کا کوئی ایسا چچا نہیں ہو گا، جیسا کہ ہمارے تھے۔ اللہ بخشے ہمارے چچا میاں کو شکر کا ایسا علاج کرتے تھے کہ جڑ سے غائب ہو جاتی تھی۔یہ الگ بات کہ جڑ کے ساتھ بے شک درخت بھی غائب ہو جائے، لیکن وہ بیماری دور کر دیتے اور کبھی کبھی تو بیمار کو بھی۔

ایسی شفا تھی ان کے ہاتھ میں بس نبض پکڑتے تھے اور تیل پر دم کرتے اور ایک چٹکی کلونجی میں اسپغول کی بھوسی ملا کر مریض کی زبان کے بیچوں بیچ رکھ دیتے۔ اس کے بعد شوگر کیا کوئی بھی بیماری ہو بالکل غائب۔ ایسی غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

تیل کا البتہ کیا کرنا ہوتا تھا، ہم اس بارے میں آج بھی لاعلم ہیں۔ چچا میاں کو اپنے سسر کے معالج ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ ان کو شکر کے ساتھ فشار خون کی بھی شدید شکایت تھی۔ مرحوم بہت خوش خوراک تھے۔ جس دن کھانے میں نمک اور چائے میں چینی ذرا بھی کم ہو جاتی بس سمجھ لیجیے کہ ان کی کسی نہ کسی بہو کے میکے جانے کا وقت شروع ہوا چاہتا۔مرحوم بہت عزت کر کے گھر سے نکالتے تھے کہ محلے والے بھی ہفتوں یاد رکھتے۔

چچا میاں کو زبان پر بھی عبور حاصل تھا اس لیے ان سے لوگ ذرا کھنچے کھنچے ہی رہتے۔ چچا میاں نے بھی جب ان کے علاج کی ٹھانی تو بہت سوچ بچار کے بعد اجزا منتخب کیے۔ طے یہ پایا کہ ان کو دیسی گھی میں ایرانی کھجور تل کر اس کو شہد میں ڈبو کر مہینہ بھر دن میں پانچ دفعہ کھائیں گے تو شفا نصیب ہو جائے گی۔

سسر صاحب نے بڑی ہی دل جمعی کے ساتھ اپنا علاج معالجہ کیا۔ ابتدائی دس دنوں میں سب نے محسوس کیا کہ ان کا مزاج واقعی بہت اچھا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد وہ ذرا تھکے تھکے سے رہنے لگے۔ لگ رہا تھا اب علاج ان پر ا ثر انداز ہو رہا تھا۔ پندرہویں دن اچانک ان کے انتقال کی خبر آگئی۔ بڑا افسوس ہوا ۔ بیچارے بھلے آدمی تھے۔ رہ رہ کر یاد آرہی تھی۔

خیر ہم سب خوش ہیں کہ وہ خوشی خوشی دنیا سے رخصت ہوئے۔ کم از کم انہیں ہسپتالوں میں جا کر ایڑیاں نہیں رگڑنا پڑیں۔ ایک تو ڈاکٹری ادویات بہت گرم ہوتی ہیں، فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہی کر دیتی ہیں۔ توبہ ! میں تو کبھی نہ کھاؤں۔

اب رہ گئی بات اس عالمی وبا کی، مجھے تو اب تک یقین ہے یہ صرف ایک وہم ہے۔ ہمیں وبا کا نہیں وہم کا علاج کروانا چاہیے۔ اب بتایئے ذرا ہماری پڑوسن بے بی باجی کے بیٹے کو بخار آیا۔ ہم دونوں اس کو رکشے میں بٹھا کر ہسپتال لے گئے۔ اجی اب کیا بتائیں اچھا بھلا بچہ تھا۔

ڈاکٹر نے انگلی پر مشین لگائی اور کہا اس کو سانس میں دشواری ہے یہ وبا کا شکار لگ رہا ہے اس کا ٹیسٹ کروائیے اور ہسپتال داخل کروا دیجے۔ شکر میری عقل وقت پر کام کر گئی۔فورا بے بی باجی کا ہاتھ پکڑ کے کونے میں لے گئی اور یہ بات کان میں ڈال دی، خبردار جو اس کا کورونا کا علاج شروع کروایا۔

ڈاکٹر تو اس کو مار دیں گے موسمی بخار ہے گھر چلو میں بتاتی ہوں آسان علاج ۔یہاں تو جو آرہا ہے اس کو وبا کے وارڈ میں ڈال رہے ہیں۔ بس ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بچے کو لے کر ہسپتال سے نکل آئے۔

گھر آکر میں نے باجی کو بتایا اس کو چچا میاں کا آزمودہ موسمی بخار کا علاج۔ ایک اپلا کہیں سے منگوا لیں۔ اس پر رکھ کر ایک تازہ لیموں جلا کر بچے کو کھلا دیں۔ دو دن میں بخار سرے سے غائب۔ اب کیا کریں ان غائب دماغ بے بی باجی کا آدھی بات سنتی ہیں۔

انہوں لیموں تو جلا لیا لیکن معصوم کو کھلا اپلا دیا۔بے چارہ بچہ تین گھنٹے لگاتار ناک منہ سے الٹیاں کرتا رہا، پورا جسم سوج کر کپا ہو چلا، پت اچھل گئی، قارورہ بند ہو چلا اور پھر وہ بے سدھ ہو گیا۔

ہم نے بے بی باجی کو خوب ڈانٹا اور دھمکی بھی دی کہ ہمارا نام بدنام نہ کریں اور آئندہ کچھ بھی ہو جائے ہم ہرگز ان کو کوئی گھریلو ٹوٹکا نہیں بتائیں گے۔ بچے کو محلے والوں نے بالآخر ہسپتال میں داخل کروا ہی دیا۔

ہمارا دل خون کے آنسو رویا۔ اگر ہمارے نسخے پر صحیح سے عمل کر لیتیں تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔

گیدڑ کی موت قریب آتی ہے تو وہ شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری شامت آئی ہم حفاظتی ٹیکا لگوانے پہنچ گئے۔ ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ ایک جم غفیر ہماری طرح صرف اس لیے حفاظتی ٹیکا لگوا رہا تھا کہ ان کا موبائل بند نہ ہوجائے۔

خیر جناب ویکسین کا ٹیکا لگ گیا۔ وہاں بہت لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب نے تو صاف کہا کہ جب سنا مکی کا قہوہ موجود ہے تو کیا ضرورت ہے اتنے جتن کرنے کی۔ ہم نے بھی ان کی ہاں میں ہاں خوب ملائی۔

اگلے دن صبح ہمیں حرارت محسوس ہوئی۔ ہم نے جھٹ سے اشفاق دواخانے سے سنا مکی آن لائن منگوا لی۔ بخار تو گھنٹے بھر ہی میں ٹھیک ہو گیا لیکن حفظِ ماتقدم ہم نے سنا مکی کا قہوہ شروع کر ہی دیا۔

پہلے پہل پیٹ میں شدید مروڑ سی محسوس ہوئی بس اس کے بعد کے حالات لکھنے کے قابل نہیں۔ سنا ہے گھر والوں نے ہمیں غسل خانے سے نیم مردہ حالت میں اٹھا کر ہسپتال میں جمع کروایا۔ ہم پھر بھی قائل ہیں کہ یہ اس حکیمی قہوے کا وجہ سے نہیں بلکہ ویکسین کے باعث ہوا۔

اب شدید کمزوری ہے۔ کسی کل آرام نہیں آرہا۔ ہمیں اب بھی یقین ہے کہ اگر حفاظتی ٹیکا نہ لگواتے تو یہ نوبت نہ آتی۔پھر کہوں گی کہ قہوےنے ہماری جان بچالی۔ اب اگلی دفعہ آپ لوگوں سے صحت یاب ہو کر بات کریں گے۔