کيا پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت ختم ہو پائے گی؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 29.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کيا پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت ختم ہو پائے گی؟

پاکستانی وکيل ضياء اعوان کا کہنا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی مہاجرت دہائيوں پرانا سلسلہ ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وہ اس مسئلے کا حل ہجرت کے قانونی راستوں کی دستيابی ميں ديکھتے ہيں۔

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت سے حال ہی ميں بيس افراد کی لاشيں مليں جنہيں گولياں مار کر ہلاک کيا گيا تھا۔ ابتدائی تفتيش کے بعد پتہ چلا کہ يہ سب افراد پاکستانی صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں تعلق رکھتے تھے اور روزگار کی خاطر انسانوں کے اسمگلروں کے سہارے غير قانونی طور پر يورپ کی جانب روانہ تھے۔ حکام کے مطابق يہ تمام تارکين وطن مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بعد ازاں پاکستانی وفاقی تفتيشی ادارے ايف آئی اے کے حکام نے متعلقہ اسمگلروں کو بھی گرفتار کر ليا۔ ليکن کيا يہ کہانی يہيں ختم ہو گئی؟

پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت کوئی نيا مسئلہ نہيں۔ يہ سلسلہ 1960ء کی دہائی سے ہی چلا آ رہا ہے، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد ترقياتی کاموں اور صنعتوں کی بحالی کے ليے يورپ کے متعدد ممالک کو مزدور درکار تھے اور اميگريشن سے متعلق پاليسياں بھی مقابلتاً نرم تھيں۔ وسطی پنجاب ميں آج کئی ايسے علاقے ہيں، جنہيں ’منی يورپ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ منڈی بہاالدين، کھارياں، گوجرانوالہ، گجرات اور ديگر کئی علاقوں ميں کئی خاندانوں سے کا ايک نہ ايک شخص بيرون ملک مقيم ہے اور موجودہ نسليں بھی اسی تگ و دو ميں لگی ہوئی ہيں۔ تاہم پچھلے چند ايک سالوں سے يورپ کو مہاجرين کے بحران کا سامنا ہے اور ايسے ميں نہ صرف پناہ سے متعلق یورپی پاليسياں کافی سخت ہو گئی ہيں بلکہ ہجرت کے راستے اور طريقہ ہائے کار بھی زيادہ خطرناک ہو گئے ہيں۔

پاکستانی فيڈرل انويسٹيگيشن ايجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک انسانوں کے قريب چار سو اسمگلروں کو پکڑا جا چکا ہے جبکہ پچھلے سال لگ بھگ دو ہزار ايسے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی۔ ايف آئی اے کا موقف ہے کہ تربت ميں پيش آنے والا واقعہ ’دہشت گردی‘ کے زمرے ميں آتا ہے ليکن اگر انسانوں کے اسمگلر اپنی آنکھوں ميں يورپ پہنچنے کے خواب سجائے نوجوانوں کو پر خطر راستوں سے نہ لے کر جاتے، تو کيا يہ سانحہ پيش آتا؟

ویڈیو دیکھیے 02:34
Now live
02:34 منٹ

پاکستانی طلبا اور اعلیٰ تعليم يافتہ افراد کے ليے جرمنی ميں مواقع

انسانوں کی اسمگلنگ سے متعلق امور پر مہارت رکھنے والے پاکستانی وکيل ضياء اعوان کے بقول ويسے تو غير قانونی ہجرت کے دوران ہولناک انجام کی کہانياں کئی ہيں ليکن اس طرح دہشت گردی کا واقعہ شاید شاذ و نادر ہی پيش آيا ہو۔ ڈی ڈبليو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’يہ ايک پريشان کن بات تھی کہ اسمگلروں نے نوجوانوں کو ايسے مقامات تک پہنچايا، جہاں دہشت گرد تھے اور انہوں نے ان تارکین وطن کو نشانہ بنايا۔‘‘ وکيل ضياء اعوان نے بتايا کہ ’ان راستوں سے ہجرت سالہا سال سے جاری ہے اور پاکستان ميں غربت، بے روزگاری، آبادی ميں اضافے، حکومت کی طرف سے قيادت کے فقدان، غير محفوظ سرحدوں اور عدم مساوات اور اسی طرز کے ديگر اسباب کی بناء پر آئندہ بھی جاری رہے گی‘۔

پاکستانی وکيل کے مطابق زمينی راستوں سے غير قانونی ہجرت کے خاتمے کے ليے ايک باقاعدہ فورس درکار ہے، جو صرف حکومت پاکستان تنہا نہيں کر سکتی۔ ’’اس کے ليے خطے کے ديگر ملکوں کو ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔‘‘ اس معاملے کا ايک اور رخ يہ بھی ہے کہ ’يہ مانگ اور ترسيل کا معاملہ ہے‘۔ اعوان کے بقول يورپ ميں لوگوں کی بڑھتی ہوئی عمروں کے سبب طلب آج بھی بہت ہے ليکن آج ترجيح کسی اور ملک کو دی جاتی ہے اور کل کسی اور ملک کو دی جائے گی۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’يورپ خود ايک سياسی ايجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ اسی ضمن ميں شامی، افغان اور ديگر ملکوں کی شہريت کے حامل لوگوں کو وہاں پناہ دی گئی۔ ظاہر ہے ايسے ميں ديگر ملکوں کے لوگ بھی قسمت آزماتے ہيں کيونکہ اس طرح ہجرت کے راستے تو کبھی بند نہيں ہوتے۔‘‘

ضياء اعوان کے مطابق ہيومن ٹريفکنگ يا اسمگلنگ کے مسائل پر قابو پانے کے ليے کئی سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ’’اس کے ليے ملک ميں قيادت، معاشی ترقی، آبادی ميں اضافے پر کنٹرول، کئی ملکوں کی ايک مشترکہ ٹاسک فورس کا قيام اور ديگر اقدامات شامل ہيں۔‘‘ ضیا اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ ہميشہ خوشحالی اور ترقی کی سمت ميں جاتے رہيں گے اور اگر انہيں قانونی راستے فراہم نہ کيے گئے تو اس طرز سے غير قانونی ہجرت کو روکنا نا ممکن سی بات ہے‘۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار