کيا طنز و مزاح کے ذریعے انتہا پسندی کا مقابلہ ممکن ہے؟ | معاشرہ | DW | 25.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کيا طنز و مزاح کے ذریعے انتہا پسندی کا مقابلہ ممکن ہے؟

جرمنی میں حکام نے انتہا پسند رجحانات کا مقابلہ کرنے کے ليے طنز و مزاح پر مبنی دو نئے يو ٹيوب چينل لانچ کیے ہیں۔ ان ميں سے ايک پر معلومات فراہم کی جاتی ہے جبکہ دوسرے پر طنز و مزاح کے ذریعے سماجی مسائل پر آگہی دی جاتی ہے۔

رياست نارتھ رائن ويسٹ فاليا کے حکام کو امید ہے کہ یہ مہم انٹرنیٹ پر مذہبی پراپگینڈا اور شدت پسندی کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہوگی۔  'جہادی بے وقوف‘ کے عنوان سے يو ٹيوب چينل جرمن شہر کولون ميں جاری کمپيوٹر گيمز کی نمائش 'گيمز کوم‘ کے دوران بائيس اگست کو لانچ کيا گيا۔ اس چينل پر موجود  ويڈيوز ميں مختصر دورانيے کے طنز و مزاح کے خاکے ہوں گے، جن کے ذريعے  اسلام کے نام پر انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلانے والوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ جبکہ دوسرے چينل پر تشدد پر اُکسانے والے سلفی نظریات کا حقائق اور معلومات کی بنیاد پر جواب دیا جائے گا۔ يہ چينل آئندہ ہفتے لانچ ہوگا۔

اس مہم کے تحت آئندہ ايک سال ميں بتيس مزاحيہ ويڈيوز اور سولہ تعليمی ويڈيوز رلیز کی جائيں گی، جن پر پانچ لاکھ يورو لاگت آئے گی۔ ابتدائی چند روز ميں 'جہادی بے وقوف‘ يو ٹيوب چينل پر ملا جلا رجحان ديکھنے ميں آيا۔ بعض لوگ ان ويڈيوز کو تفريحی قرار دے رہے ہيں تو کچھ انہيں سرکاری پيسوں کا ضياع بھی کہہ رہے ہيں۔

حکومت کو اس مہم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ریاست نارتھ رائن ويسٹ فاليا کے وزير داخلہ ہربرٹ ريول کے مطابق شام اور عراق ميں دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کی شکست کا ہر گز يہ مطلب نہيں کہ آبادی کے لحاظ سے جرمنی کے سب سے بڑے صوبے ميں موجود تين ہزار سے زائد سلفی انتہا پسند بھی اچانک ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''وہ اب بھی سرگرم ہيں اور ايسے راستے اور پليٹ فارمز استعمال کرتے ہيں جن سے وہ نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کر سکيں۔‘‘ ريول کے بقول مزاح اور حقائق جمہوری معاشرے میں اظہار کا اہم ذریعہ ہيں۔

مذہبی انتہاپسندی روکنے کے ليے سرگرم افُق نامی تنظيم سے وابستہ محققہ جوانح گولسورکھ کہتی ہيں کہ طنز و مزاح پر مبنی ويڈيوز کا خيال تو اچھا ہے ليکن ان کی کاميابی کا دارومدار اس پر ہو گا کہ وہ آ کہاں سے رہی ہيں۔ عموماً اگر ايسا مواد حکومتی اداروں کی جانب سے پيش کيا جائے، تو اس کی کاميابی کے امکانات محدود ہوتے ہيں۔

دوسری جانب تاريخ دان اور اسلامی امور پر مہارت رکھنے والے کرسٹيان اوسٹہولڈ کا کہنا ہے کہ آگہی کی يہ مہم کامياب اور مؤثر ہو سکتی ہے بشرطیہ کہ اس کے لیےجرمنی میں مقیم مسلم برادی کے با اثر لوگوں کو اس کا حصہ بنایا جائے۔

ع س / ش ج، نيوز ايجنسياں