کوے ’ذہنی صلاحیتوں‘ میں بن مانس کے ہم پلہ، رپورٹ | سائنس اور ماحول | DW | 12.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کوے ’ذہنی صلاحیتوں‘ میں بن مانس کے ہم پلہ، رپورٹ

جرمن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نوجوان کوے سماجی اور جسمانی ’ہنرمندی‘ میں چمپنزی کے برابر ہوتے ہیں۔ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق کوے نہایت اعلیٰ دماغ کے حامل ہوتے ہیں۔

سائنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گو کہ کوے ساخت کے اعتبار سے ممالیہ جانوروں سے مختلف دماغ کے حامل ہوتے ہیں، تاہم سوچنے کے اعتبار سے ان کی صلاحیت غیرمعمولی ہے۔ اس مطالعاتی رپورٹ کے لیے آٹھ نوجوان کووں کو وہی ٹیسٹ دیے گئے، جو بن مانسوں اور لنگوروں کو دیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے ان کی جسمانی اور سماجی ذہانت جانچی جاتی ہے۔ سائنٹیفک رپورٹس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جانچ میں کوؤں کو ذہانت کے اعتبار سے چمپنزی کے 'انتہائی قریب‘ پایا گیا۔

مجھے کوّے کا بچہ مل گیا، کیا کروں؟

کوے مضبوط یادداشت کے حامل ہوتے ہیں

کوؤں کی دماغی صلاحیتوں پر کی جانے والی اس بڑی تحقیق کے ذریعے کوؤں اور بندروں کی ہنرمندی کی جانچ کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں 'سائنس کے عظیم معموں‘ میں سے ایک کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پرندوں اور ممالیہ کے اذہان کیسے اور کیوں مختلف ہیں۔ سائئنس دانوں کا کہنا ہے کہ تین سو ملین برس قبل ان دونوں کے اذہان متوازی طور پر ارتقائی عمل سے گزرنا شروع ہوئے۔

جانچ کی کیسے گئی؟

عام کوؤں کو جنوبی جرمن شہر میونخ کے قریب ماکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے آرنیتھولوجی میں پالا گیا۔ اس کے بعد انہیں ایک بڑے پنجرہ نما جگہ پر  چھوڑ دیا گیا اور پھر پی سی ٹی بی تجربات سے گزارا گیا۔ یہ وہ تجربات ہیں، جو بندروں کی ذہانت کی جانچ کے لیے کیے جاتے ہیں۔

ایک جانچ میں تین متحرک کوؤں میں سے ایک میں خوراک کا ٹکڑا چھپا کر کوے سے جانا گیا کہ خوراک کس میں ہے۔ اس تجربے میں بن مانس انگلی کے اشارے سے بتاتے ہیں جب کہ کوؤں کو چونچ کے ذریعے بتانا تھا۔

اسی طرح یادداشت کی صلاحیت سے متعلق بھی یہ جانچا گیا کہ کوے کس طرح چیزیں یاد رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق کوے دیکھ کر یا اشارہ کر کے دوسروں کے ساتھ ابلاغ کرتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق چار ماہ کی عمر کے نوجوان کوؤں نے چھ مختلف سماجی اور جسمانی ٹاسکس کی انجام دہی میں مکمل 'ذہنی صلاحیتوں‘ کا مظاہرہ کیا۔ جرمنی کی اوسنا بروک یونیورسٹی کی پروفیسر اور اس پروجیکٹ کی قائد زیمونے پِکا اور ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کی مِریم زیما نے بتایا کہ چار ماہ کی عمر تک کوے خاصے خودمختار ہو چکے ہوتے ہیں۔ ''اس عمر میں وہ نئے چینلجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہو چکے ہوتے ہیں۔‘‘

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ''کوؤں اور گریٹ ایپس کے درمیان قابل توجہ مماثلت پائی جاتی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے آرنیتھولوجی وہ ادارہ ہے، جس سے وابستہ سائنس دان کونراڈ لورینس نوبل انعام جیتے تھے۔

ع ت، ا ا (اے ایف پی، روئٹرز، اے پی)