کویت میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ، ایشیا میں گرمی کا نیا ریکارڈ | سائنس اور ماحول | DW | 26.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کویت میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ، ایشیا میں گرمی کا نیا ریکارڈ

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق کویت میں گزشتہ ہفتے ریکارڈ کیا جانے والا 54 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت، جو 129 ڈگری فارن ہائیٹ سے بھی زیادہ بنتا ہے، ایشیا میں زیادہ سے زیادہ گرمی کا غالباﹰ ایک نیا ریکارڈ ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں جنیوا سے منگل چھبیس جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی موسمیاتی تنظیم یا WMO کا کہنا ہے کہ ماہرین کی رائے میں ابھی حال ہی میں کویت میں ریکارڈ کیا جانے والا چوّن ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت غالباﹰ کرہء ارض کے مشرقی نصف حصے میں آج تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ گرمی تھی۔

عالمی موسمیاتی ادارے کی طرف سے آج منگل کے روز بتایا گیا کہ 54 ڈگری سینٹی گریڈ یا 129.2 ڈگری فارن ہائیٹ کے برابر یہ درجہ حرارت 21 جولائی جمعرات کے روز خلیجی عرب ریاست کویت کے شمال میں اس بنجر اور خشک علاقے میں ریکارڈ کیا گیا تھا، جو مترابہ کہلاتا ہے۔

ڈبلیو ایم او کے عمر بدور نے جنیوا میں کہا، ’’مترابہ میں ریکارڈ کیا جانے والا چوّن ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بظاہر ایشیا اور زمین کے مشرقی نصف کرّے میں زیادہ سے زیادہ گرمی کا نیا ریکارڈ ہے۔ ہم نے اس امر کی تصدیق کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو یہ دیکھے گی کہ آیا یہ بات سائنسی طور پر بھی درست ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کئی حصوں کو انتہائی شدید گرمی کی ایک ایسی ہی طویل لہر کا سامنا رہا تھا، جیسی پچھلی نصف صدی کے دوران زیادہ تواتر سے دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ چھ ماہ کا عرصہ کرہء ارض کے لیے گرم ترین ششماہی بھی ثابت ہوا تھا۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے ریکارڈ کے مطابق دنیا میں کہیں بھی آج تک کی زیادہ سے زیادہ گرمی 1913ء میں امریکی ریاست کیلی فورنیا کی وادیء موت یا ’ڈیتھ ویلی‘ میں فرنَس کرِیک کے مقام پر پڑی تھی۔ 103 برس قبل وہاں درجہ حرارت 56.7 ڈگری سینٹی گریڈ یا 134 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا تھا۔

DW.COM