کوہ پیمائی میں بھی ′بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے اثرات | کھیل | DW | 09.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

کوہ پیمائی میں بھی 'بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے اثرات

امریکا سے اٹھنے والی'بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے اثرات اب کھیلوں کے شعبے میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس تحریک نے کوہ پیمائی کھیل کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

سیاہ فام کوہ پیما میگن مارٹن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب نسلی تعصب کا صفایا ہو جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسپورٹس میں واضح طور پر تعصب موجود نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بطور سیاہ فام کوہ پیما وہ اس کا سامنا کرتی ہیں۔

 اس سیاہ فام ایتھلیٹ نے یقین کے ساتھ کہا کہ اس تعصب کو محسوس کرنے کے باوجود وہ پرعزم ہیں کہ وہ اس کا مقابلہ کرتی رہیں گی۔

میگن مارٹن ایک پروفیشنل کوہ پیما ہیں اور کئی بین الاقوامی مقابلوں میں امریکا کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ وہ امریکی ٹیلی وژن شو 'امریکن ننجا واریئر‘ میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ خاتون ایتھلیٹ 'بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک میں خاصی سرگرم بھی ہیں۔

ان کا یہ کہنا ہے کہ کوہ پیمائی یا کلائمبنگ (Climbing) سے تعلق رکھنی والی کمیونٹی میں بھی نسلی تعصب موجود ہے۔ مارٹن کا مزید کہنا ہے کہ اسپانسر کرنے والی کمپنیاں پیچھے ہٹتے ہوئے دوسرے پہلوؤں پر اب غور کر رہی ہیں اور یہ بھی ان کے سامنے ہے کہ کہاں کہاں انہوں نے سیاہ فام کمیونٹی کو نظر انداز کیا اور اب کیسے اس صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی ایتھلیٹس تو ایسی کمپنیوں کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

ایسا اندازہ لگایا گیا ہے کہ رنگ و نسل کی بنیاد پر امریکی کوہ پیمائی کے اسپورٹ ڈسپلن میں تعصب کو محسوس کیا گیا ہے۔ سن 2019 میں مکمل کی گئی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق افریقی امریکی ایتھلیٹ کلائمبنگ (کوہ پیمائی) کھیل میں محض ایک فیصد ہیں، جب کہ امریکی آبادی میں ان کا تناسب تیرہ فیصد ہے۔

سیاہ فام امریکی صحافی اور مصنف جیمز ایڈورڈ مِلز کا کہنا ہے کہ کلائمبنگ میں یہ تفریق بھی مہماتی فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ مِلز نے اس تناظر میں مزید کہا کہ کچھ بھی کہا جائے یا اس کو سماجی اور ثقافتی حوالے سے بھی دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کوہ پیمائی یا کلائمبنگ صرف سفید فام افراد کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ایک انتہائی مہنگی اسپورٹ ہونے کی وجہ سے بھی سیاہ فام ایتھلیٹ اس کی جانب کم توجہ دیتے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ کلائمبنگ میں کوئی ایسا نامی گرامی سیاہ فام ایتھلیٹ بھی سامنے نہیں آیا یا ابھرا جو اپنی کمیونٹی کے لیے ایک رول ماڈل بن سکتا۔

بائیس سالہ برطانوی خاتون کوہ پیما مولی تھامسن اسمتھ کا کہنا ہے کہ انہیں بھی متعدد مرتبہ نسلی تعصب کا سامنا رہا ہے۔ تھامسن اسمتھ کے مطابق کلائمبنگ جِم میں کئی دوسرے افراد کے طنزیہ جملے بھی سننے کو ملتے ہیں لیکن انہیں نظرانداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایسے جملوں یا مزاح پر مشتعل ہونا تعصب کا جواب نہیں قرار دیا جا سکتا۔

میگن مارٹن کی طرح مولی تھامسن اسمتھ بھی 'بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک میں سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ بہتری کی صورت پیدا ہو کر رہے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھیل میں بہتری پیدا کرنے کے لیے مختلف دوسری جہتوں کو بھی تلاش کرنا ضروری ہے اور اس پیش رفت کے اثرات کلائمبنگ کمیونٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔

ویڈیو دیکھیے 02:59

برلن میں نسلی تعصب اور امتیازی سلوک کے خلاف مظاہرہ

اشٹیفان نیسٹلر (ع ح، ع ا)

 

DW.COM