کووڈ اور سائنس، سچ کیا اور جھوٹ کیا؟ | معاشرہ | DW | 09.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کووڈ اور سائنس، سچ کیا اور جھوٹ کیا؟

کووڈ کی عالمی وبا کے بارے میں بہت زیادہ معلومات گردش میں ہیں، جن میں سے بہت سی غلط بھی ہیں۔ اس صورتحال میں کہیں آپ بھی الجھن کا شکار تو نہیں ہو گئے؟ کس بات پر یقین کیا جائے اور کس پر نہیں، یہ معاملہ کچھ پیچیدہ ہے۔

کووڈ انیس کی عالمی وبا کے دوران کورونا وائرس کے کسی ایک ہی پہلو کے بارے میں دی جانے والی معلومات میں تیزی سے تبدیلی رونما ہوتی رہی ہے، کیا یہ بات آپ کے لیے بھی الجھن یا کوفت کا باعث بن رہی ہے؟

کیا آپ اس بات پر بھی برہم ہیں کہ متبادل رائے رکھنے والے ماہرین کو اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کی خاطر مناسب توجہ نہیں مل رہی یا انہیں موقع ہی نہیں دیا جا رہا کہ وہ اپنی بات ہم تک پہنچائیں؟ وہ جو بھی کہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر ڈاکٹر یا طبی ماہرین ہی تو ہیں۔

بہت سے سوالات ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ مثال کے طور پر اس عالمی وبا پر کون با اعتماد ماہر ہے؟ اور کون نہیں؟ سائنس دان کورونا وائرس کے بارے میں اس بات پر قائم کیوں نہیں رہتے، جو انہوں نے کچھ دن پہلے بہت وثوق سے کہی تھی؟ دوسرے لفظوں میں سائنس کیسے کام کرتی ہے؟

سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ بالخصوص اس طرح کے وبائی امراض کے دوران سائنس ہمیشہ ہی درست علم فراہم نہیں کرتی بلکہ وہ اس کا دعویٰ بھی نہیں کرتی۔ حالات و واقعات اور شواہد بدلنے کے ساتھ سائنس بھی اپنے اندر تبدیلی لاتی ہے۔

سائنس ایک ارتقائی عمل ہے، جو ہمیشہ سوال کرتی رہتی ہے۔ یہ عمل اسے خود کو درست کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ کہنا ہے الرش ڈرناگل کا، جو برلن کے چیرٹی ہسپتال سے بطور محقق وابستہ ہیں۔ ان کا کام پہلے سے کی گئی ریسرچ کی جانچ پڑتال کرنا اور اس پر نئی ریسرچ کرنا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی غلطی رہ گئی ہے تو اس درست کیا جائے۔

حمل گرنے کے واقعات میں اضافہ

اگرچہ سائنسی طریقہ کار مزید ریسرچ اور اس میں ترامیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ تمام مفروضہ جات اور نتائج کا وزن ایک جیسا ہو۔

کووڈ ویکسین کے بارے میں بھی بہت سی غلط معلومات گردش کر رہی ہیں۔ جیسا کہ ایک مڈ وائف (دائی) نے مجھے بتایا کہ ایسی خواتین کے حمل گرنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے ویکسین لگوائی ہے۔

جب کوئی مڈ وائف ایسا بیان دے تو بندہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اس میں کچھ حقیقت تو ہو گی کیونکہ یہ ہیلتھ ورکر ہے اور اسے ان باتوں کے بارے میں علم تو گا ہی۔

اس طرح کا مشاہدہ کسی مڈوائف کی طرف سے آئے یا کسی عام شخص کی طرف سے۔ یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس مفروضے کے بارے میں حقائق سامنے لائے جائیں۔

الرش کہتے ہیں کہ اس طرح کے مفروضوں کو کنٹرولڈ اسٹڈیز سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر آیا ان دو واقعات (ویکسین لگوانا اور خواتین کا حمل گرنا) کے مابین واقعی کوئی سائنسی تعلق ہے۔

جب ریسرچ مکمل ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ دنیا بھر میں آٹھ اعشاریہ سات ملین افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے اور اس طرح کے مفروضات کی جانچ اب کوئی خاص مشکل نہیں رہی۔ 

شک اور خود تنقیدی

ہر انسان مخصوص حالات و واقعات کی پیداوار ہوتا ہے، یہی حالات زندگی و تجربات اسے کچھ باتوں کو اٹل اور حقیقی تصور کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یوں وہ ہر واقعے کی تشریح اپنے سیکھے ہوئے نظام یقین یا بلیف سسٹم کے تحت کرنے لگتا ہیں۔

ممکن ہے کہ اس مڈ وائف کی اس مخصوص رائے میں اس کا انسانی میکانزم کارفرما ہو۔ انسانی میکانزم (جسم، دماغ، جذبات اور توانائی کا وہ مجموعہ جو انسان کی تکمیل کرتا ہے) میں اگر کوئی وقوفی یا ادراکی (سمجھ بوجھ یا اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہو کر کچھ یقین کر لینا) غلطی سرزد ہو جائے تو وہ انہی معلومات یا علم کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، جو اس کے یقینی نظام کے ساتھ میل کھاتی ہیں۔

سوچنے اور سمجھنے کا ایک خاص انداز اور معلومات کو تسلیم یا رد کرنے میں ہر انسان اپنے مخصوص علمی تعصب سے کام لیتا ہے۔ ماہر نفسیات اس کے لیے کنفرمیشن بائس (تصدیق کے تعصب) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

سازشی سوچ پر ریسرچ کرنے والے سوشل سائیکالوجسٹ رونالڈ امہوف کہتے ہیں کہ تصدیق کے تعصب یا خاص طریقے سے سوچنے کے عمل سے کوئی بھی انسان آزاد نہیں لیکن اہم ہے کہ لوگ اپنے خیالات کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں اور دیکھیں کہ ان کی اس خاص ںظریے میں منطقی وزن کتنا ہے، یعنی کیا وہ دلائل سے ثابت ہو سکتا ہے؟

ثابت ںہیں بلکہ غلط ثابت کرنا

الرش ڈرناگل کا کہنا ہے سائنس سچائی بیان نہیں کرتی بلکہ صرف یہ بتاتی ہے کہ کوئی مفروضہ درست ہے یا غلط۔ یہ مفروضہ کہ سب کوے کالے ہیں، اس وقت تک درست ہے، جب تک کسی اور رنگ کا کوا نظر نہ آ جائے۔

یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نئی سائنسی تبدیلی آتی ہے تو سائنس دان اپنی پہلے کہی ہوئی بات کو غلط تسلیم کر لیتے ہیں۔ کووڈ کی عالمی وبا کے بالخصوص پہلے سال معلومات تیزی سے موصول ہو رہی تھیں اور مفروضے بنائے جا رہے تھے۔ سائنسی شواہد کی بنیاد پر ان کی جانچ کے بعد کچھ درست ثابت ہوئے اور کچھ غلط۔

پھر جیسے جیسے نئی معلومات ملیں اور ان کا تجزیہ کیا گیا تو سائنس نے درست نتائج کا اعلان کرتے ہوئے گزشتہ مفروضات کو غلط قرار دے دیا۔ اب بھی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اس عالمی وبا سے متعلق نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ مزید تحقیق کے بعد ہم ان معلومات کو بھی غلط قرار دے دیں، جو فی الحال درست تسلیم کی جا رہی ہیں۔

امہوف کے مطابق اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ کوئی شے 100 فیصد درست ہے تو جان لیجیے کہ وہ  مشکوک سائنسی رویے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ورجن جولیا (ع ب/ا ب ا)

یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ جرمن زبان میں شائع کیا گیا۔

ویڈیو دیکھیے 03:06

سازشی نظریات کا پرچار اور کورونا وائرس کا بحران

DW.COM