کووڈ انيس سے صحت يابی کے کئی ماہ بعد بھی علامات برقرار رہتی ہيں، نئی ریسرچ | حالات حاضرہ | DW | 09.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کووڈ انيس سے صحت يابی کے کئی ماہ بعد بھی علامات برقرار رہتی ہيں، نئی ریسرچ

کووڈ انيس سے صحت يابی کے بعد بھی مریضوں کی اکثريت ميں اس مرض کے طويل المدتی اثرات نماياں رہتے ہيں اور يہ امکان بھی موجود رہتا ہے کہ مريض دوبارہ اس وبائی مرض کا شکار ہو جائے۔ اس لیے صحت يابی کے بعد بھی احتياط لازمی ہے۔

ايک تازہ طبی مطالعے کے نتیجے ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ انيس کے مریضوں کی اکثريت ميں مکمل صحت يابی کے کئی کئی ماہ بعد بھی اس بيماری کی کم از کم ايک علامت برقرار رہتی ہے۔ اس تحقيق سے پتا چلا ہے کہ تين چوتھائی سے بھی زائد مريضوں ميں صحت يابی کے چھ ماہ بعد تک ايک علامت باقی رہتی ہے۔ سب سے زيادہ پائی جانے والی علامت شديد تھکاوٹ کا احساس اور پٹھوں ميں درد تھی۔ چند مريضوں ميں نيند کی کمی بھی نوٹ کی گئی۔

کووڈ انيس کے طويل المدتی اثرات

يہ مطالعہ کووڈ انيس کے طويل المدتی اثرات کا جائزہ لينے کے ليے چينی شہر ووہان ميں مکمل کیا گيا، جس کے نتائج سائنسی جريدے لَینسٹ ميں شائع ہوئے ہیں۔ مطالعے ميں ووہان کے ايک ہسپتال سے گزشتہ برس جنوری سے مئی کے درميان علاج کے بعد صحت ياب ہونے والے 1,733 مريضوں کا طبی معائنہ کرايا گيا۔ ستاون برس کی اوسط عمر کے مريضوں سے جون اور ستمبر کے درميان سوالات پوچھے گئے تھے۔

بائیو این ٹیک فائزر ویکسین کے عالمی سطح پر استعمال کی اجازت

بھارت: کووڈ ویکسین پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟

انڈونیشیا: علماء کونسل کا کورونا ویکسین کے متعلق فتوی

اس مطالعے کے نتائج پر مشتمل رپورٹ کے مرکزی مصنف اور نيشنل سينٹر فار ريسپیريٹری ميڈيسن کے ماہر محقق پروفيسر بن کاؤ کے مطابق، ''چونکہ کووڈ انيس ايک بالکل ہی نئی بيماری ہے، ہم مريضوں کی صحت پر اس کے طويل المدتی اثرات کو اب آہستہ آہستہ سمجھ رہے ہيں۔‘‘ پروفيسر کاؤ نے مزيد کہا کہ اسٹڈی کے نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہيں کہ مريضوں کی صحت يابی اور ہسپتال سے رخصتی کے بعد بھی ان کی ديکھ بھال  لازمی ہے، بالخصوص ان مريضوں کی جن ميں اس وبائی مرض کی شديد علامات ظاہر ہوئی ہوں۔

اس مطالعے ميں کووڈ انیس سے صحت ياب ہونے والے افراد میں پائی جانے والی اينٹی باڈيز کا بھی جائزہ ليا گيا۔ صحت يابی کے چھ ماہ بعد ايسی اینٹی باڈيز کا تناسب ساڑھے باون فيصد تھا، جس کا مطلب ہے کہ يہ وبائی مرض کسی مریض کو دوبارہ بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کی تازہ عالمی صورتحال

امريکا کی جان ہاپکنز يونيورسٹی کے نو جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا اب تک تقريباً 89 ملين افراد کو متاثر کر چکی ہے۔ اس وبائی مرض کی وجہ سے دنيا بھر ميں انيس لاکھ چودہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ امريکا، بھارت اور برازيل اس وبا سے سب سے زيادہ متاثرہ ممالک ہيں۔

ویڈیو دیکھیے 01:19

پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کا پھیلاؤ

ع س / م م (اے ايف پی)

ملتے جلتے مندرجات