کوریائی جنگ میں مارے گئے امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات واپس | حالات حاضرہ | DW | 27.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کوریائی جنگ میں مارے گئے امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات واپس

شمالی کوریائی حکومت نے اُن امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات امریکا کے سپرد کر دی ہیں، جو عشروں پہلے کوریائی جنگ میں مارے گئے تھے۔ ایک امریکی فوجی ہوائی جہاز اس مقصد کے لیے شمالی کوریا پہنچا تھا۔

شمالی کوریا نے کوریائی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات جمعہ ستائیس جولائی کو امریکا کو واپس کر دیں۔ ان جسمانی باقیات کو لے کر ایک خصوصی امریکی ہوائی جہاز شمالی کوریا سے واپس امریکا روانہ ہو گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی فوجیوں کی یہ جسمانی باقیات وصول کر لینے کی تصدیق کر دی ہے۔ شمالی کوریا کے ایک فوجی مرکز پر امریکی دستوں نے ان فوجیوں کی جسمانی باقیات وصول کرتے ہوئے پچپن تابوتوں کو خصوصی سلامی بھی دی۔ یہ تابوت جب امریکی فوجیوں کو دیے گئے تو اُس وقت وہ اقوام متحدہ کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے۔

اُدھر جنوبی کوریا میں متعین امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ونسینٹ کے بروکس نے ان جسمانی باقیات کی وصولی کے عمل کو ایک ادھورے مشن کی تکمیل قرار دیا۔ جنرل بروکس نے مزید کہا کہ ان امریکی سپاہیوں کی جسمانی باقیات کو امریکا پہنچانے کے بعد ان کی آخری رسومات کی ادائیگی پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔

Südkorea Osan Air Base in Pyeongtaek | Überführung sterblicher Überreste von US-Soldaten aus Koreakrieg (Reuters/K. Hong-Ji)

شمالی کوریا نے کوریائی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات امریکا کے حوالے کر دیں

امریکی فوجیوں کی ان باقیات کی واپسی کا وعدہ شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اُن نے گزشتہ ماہ سنگاپور سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا تھا۔ شمالی کوریا سے ان باقیات کو لے جانے والے امریکی ہوائی جہاز کی روانگی کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں چیئرمین کم جونگ اُن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔

شمالی کوریا سے ان امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات کی ابتدائی منتقلی جنوبی کوریا میں ایک امریکی فوجی بیس پر کی گئی ہے۔ وہاں ان فوجیوں کے تابوتوں کو امریکی جھنڈے میں لپیٹا جائے گا۔ جنوبی کوریائی بیس پر بھی امریکی فوج کے دستوں نے ان فوجیوں کو خصوصی سلامی دی۔ ان تابوتوں کی اگلی منتقلی ہوائی میں کی جائے گی اور وہاں اُن کے کلینیکل معائنوں کے ذریعے یہ تعین کیا جائے گا کہ آیا ان تابوت میں موجود جسمانی باقیات انسانی جسمانی باقیات ہی ہیں اور ان کا تعلق امریکی فوج سے ہی تھا۔

سن 1950 سے سن 1953 تک جاری رہنے والی جزیرہ نما کوریا کی شدید جنگ میں سات ہزار سات سو امریکی فوجی لاپتہ ہوئے تھے۔ امریکی فوجی حکام کا خیال ہے کہ ان میں سے 53 سو شمالی کوریائی علاقے میں اپنی کمان سے جدا ہو گئے تھے اور ان کا کوئی اتہ پتہ دستیاب نہیں۔ اس جنگ میں جو لاکھوں انسان مارے گئے تھے، ان میں 36 ہزار امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

DW.COM