کورونا کی وجہ سے بھارت میں افراتفری | حالات حاضرہ | DW | 22.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا کی وجہ سے بھارت میں افراتفری

بھارت نے کورونا کے ایک دن میں سب سے زیادہ نئے کیسز کے معاملے میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ متاثرین کے لیے انتہائی ضروری آکسیجن گیس کی قلت پیدا ہوگئی اور کالابازاری بھی شروع ہوگئی ہے۔

بھارت کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کی وبا کا قہر جاری ہے اور اس میں کمی کے بجائے دن بہ دن مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت اس وقت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تقریبا ًتین لاکھ 15 ہزار کورونا سے متاثرین کے نئے کیسز درج کیے گئے۔ دنیا کے کسی ملک بھی میں ایک دن کے اندر اب تک کا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔

 وزارت صحت کے حکام نے 22 اپریل جمعرات کی صبح کورونا وائرس سے متاثرہ نئے افراد کے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں اس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تین لاکھ آٹھ سو 35 مزید افراد متاثر ہوئے۔  جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک دن کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر نہیں ہوئے تھے۔ گزشتہ ایک دن کے دوران دو ہزار ایک سو چار مزید افراد کی موت بھی ہوگئی۔

یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں جبکہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی کیونکہ ایک تو ٹیسٹ کی سہولیات کم ہیں دوسرے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے اس لیے بہت سے لوگوں کا گھروں میں ہی انتقال ہو جا رہا ہے۔ بیشتر ہسپتال ایسے مریضوں کی موت کے سرٹیفکٹ پر کورونا لکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں جس سے اصل تعداد کا معلوم ہونا بڑا مشکل ہے۔پرائیوٹ ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا بھی کوئی درست ریکارڈ نہیں رکھا جارہا ہے۔

 بھارت میں کووڈ انیس سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہے جبکہ تقریباً  ایک لاکھ 85 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھیک مانگیں یا چوری کریں، لیکن آکسیجن کا انتظام کریں

ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے حوالے سے گزشتہ روز دہلی ہائی کورٹ میں ایک کیس پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے مودی حکومت  کی سخت الفاظ میں سرزنش کی اور کہا کہ حکومت آخر عوام کی زندگیوں کے تئیں اس قدر لاپرواہ اور بے حس کیسے ہو سکتی ہے۔

ہائی کورٹ کا کہنا تھا، '' حکومت زمینی حقائق سے آخر اس قدر غافل کیوں ہے؟ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے آپ لوگوں کو اس طرح مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ بھیک مانگ کر، ادھار یا پھر چوری کر کے جیسے بھی بن پڑے، آکسیجن کا انتظام کریں، یہ آپ کا کام ہے۔''

عدالت میں یہ درخواست دہلی کے ایک معروف ہسپتال نے داخل کی تھی جس کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں بھرتی ہونے والے سینکڑوں مریضوں کو آکسیجن کی اشد ضرورت ہے جبکہ ہسپتال کا اسٹاک ختم ہونے کو ہے۔ ہسپتال نے دو روز قبل ہی انتظامیہ کو بتا دیا تھا تاہم اس کے باوجود جب کوئی بندو بست نہیں ہوا تو عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔

بھارت میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ملکی نظام صحت زبردست دباؤ میں ہے اور گزشتہ چند روز سے بیشتر ہسپتالوں کی جانب سے یہ شکایت عام طور پر سننے میں آتی رہی ہے کہ ان کے پاس آکسیجن تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ان کی حکومت آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ریاستی حکومتوں اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

 آکسیجن لیک ہونے سے چوبیس مریض ہلاک

ایک طرف جہاں بیشتر ہسپتال آکسیجن کی کمی سے دو چار ہیں وہیں ریاست مہاراشٹر کے ناسک میں ایک سرکاری ہسپتال میں گزشتہ روز آکسیجن کے سلنڈر کے لیک ہونے سے کورونا وائرس کے 24 مریض ہلاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق ہسپتال میں ڈیڑھ سو سے زائد کورونا کے مریض تھے جس میں سے بیشتر آکسیجن پر تھے۔ ہسپتال کے جس اسٹور میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے اس میں لیکیج ہونے سے بہت سے مریض متاثر ہوئے جس میں 24 کی موت ہو گئی۔   

متاثرین میں اہم شخصیات

سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ، کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنما راہول گاندھی، پارلیمان میں حزب اختلاف کے رہنما ادھیررنجن چودھری جیسی کئی اہم شخصیات بھی کوونا وائرس سے متاثر ہیں۔ من موہن سنگھ کو دہلی کے ایمس ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جبکہ راہول گاندھی نے خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر رکھا ہے۔

راہول گاندھی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ''میں گھر میں قرنطینہ میں رہکر ملک بھر سے مسلسل المناک کہانیاں دیکھ رہا ہوں۔ بھارت صرف کورونا سے ہی متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کی بھی مار جھیل رہا ہے۔''

ویڈیو دیکھیے 02:34

کشمیری نوجوان نے اسکریپ سے وینٹیلیٹر بنا لیا

مودی کے گزشتہ روز کے خطاب پر نکتہ چینی کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ ملک کو زبانی جمع خرچ اور فرسودہ فیسٹیول کی نہیں بلکہ مسائل کے حل کی ضرورت ہے۔  

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت کے معروف عالم دین 96سالہ مولانا وحید الدین خان، کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سیتا رام یچوری کے 34 سالہ صاحب زادے آشیش یچوری، دلی کے سابق وزیر اے کے والیا اور تجربہ کار سنیمٹو گرافر جانی لال کا انتقال ہوگیا ہے۔اردو کے کئی اہم ادیب و شعرا ء بھی پچھلے چند دنوں کے دوران کوورنا کی وجہ سے مالک حقیقی سے جاملے۔

 صدر رام ناتھ کوند، نائب صدر اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ملک کے تقریباً تمام سرکردہ رہنماؤں نے سیتا رام یچوری کے بیٹے کے انتقال پر تعزیت کی ہے اور گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ 

بنگال میں انتخابات

ایک ایسے وقت جب بھارت کورونا وائرس کی دوسری لہر سے نبرد آزما ہے ریاست مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے کے تحت   43 نشستوں کے لیے آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی اس مہلک وبا کے دوران سیاسی رہنما بڑی انتخابی ریلیاں کر رہے ہیں جس میں لاکھوں لوگ بغیر ماسک کے جمع ہوتے ہیں۔ خود زویر داخلہ امیت شاہ نے  22 اپریل کو ایک بڑی انتخابی ریلی کی۔ جبکہ کانگریس پارٹی نے کووڈ کے سبب

 اپنے تمام انتخابی پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست کی حکمراں ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بنرجی نے بھی کئی اہم انتخابی جلسوں کو منسوخ کردیا ہے۔

DW.COM