کورونا کی وبا کا ايک نتيجہ: ’بوس و کنار منع‘ | فن و ثقافت | DW | 25.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

کورونا کی وبا کا ايک نتيجہ: ’بوس و کنار منع‘

آج کل کی بھارتی فلموں کو کافی ’بولڈ‘ سمجھا جاتا ہے يعنی ان فملوں ميں تواتر سے بوس و کنار والے مناظر ہوتے ہيں۔ البتہ کورونا کی وبا کے تناظر ميں بالی وُڈ کے ليے متعارف کردہ نئے قوائد و ضوابط اب اس کی اجازت نہيں ديتے۔

بھارتی فلمی صنعت یا بالی وُڈ ميں فلموں کی شوٹنگ فوری طور پر دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ يہ اعلان صنعت کے نمائندگان نے آج جمعرات 25 جون کو کيا ہے۔ بالی وڈ فلمی صنعت کی تين سرکردہ تنظيموں نے اس بارے ميں حتمی فيصلہ کيا۔ حکومت چند روز قبل ہی شوٹنگ اور فلمی سرگرميوں کی بحالی کی اجازت دے چکی ہے تاہم پروڈيسرز، ڈائريکٹرز، اداکاروں اور عملے کے ارکان کی صحت کے حوالے سے نئے قوائد و ضوابط پر مذاکرات جاری تھے۔ صنعت کے نمائندگان نے تصديق کی کہ اب يہ معاملات سلجھا ليے گئے ہيں اور نتيجتاً فلمی سرگرميوں کی فوری بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث جہاں دنيا بھر اور بھارت ميں کئی شعبہ جات متاثر ہوئے، وہيں بھارت کی عالمی شہرت يافتہ فلمی صنعت بھی اس سے متاثر ہوئی۔ مارچ کے اواخر سے شوٹنگز اور ديگر سرگرميوں پر پابندی عائد تھی۔ تاہم اب ايسے خدشات بھی پائے جاتے ہيں کہ وبائی مرض کی روک تھام کو يقينی بنانے کے ليے جن قوائد و ضوابط پر اتفاق کيا گيا ہے وہ بالی وڈ فلموں کی روايتی شان و شوکت، چمک دمک، بوس کنار کے بولڈ سين، ایکشن، مار پيٹ اور پر تعيش شاديوں کی مناظر کا مزہ مدھم کر سکتے ہيں۔ يہ قوانين فلم سازوں کے ليے بھی ايک چيلنج ہيں کہ وہ ان تمام بنيادی اجزاء کے بغير کيسے ايسی فلميں بنائيں، جو شائقين کی اميدوں پر بھی پورا اتريں اور مالی اعتبار سے بھی منافع بخش ثابت ہوں۔

نئے قوانين کے تحت شاديوں کے سين نہيں فلمائے جا سکتے۔ ايک عرصے سے بالی وڈ فلموں ميں ستون کی حيثيت رکھنے والے لڑائی کے سين فلمانے پر بھی پابندی ہے۔ پينسٹھ سال سے زيادہ عمر کے اداکاروں کا سيٹ پر داخلہ اب ممنوع ہے۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سے متعلق قوانين کا مطلب ہے کہ بوس و کنار والے سين بھی اب نہيں فلمائے جا سکتے يعنی ماضی کی بالی وڈ فلموں ميں جيسے رومانس کی عکاسی کے ليے دو پھولوں کو ملتے ہوئے دکھايا جاتا تھا، اب شاید وہی مناظر نئی فلموں ميں دکھائی ديں گے۔ علاوہ ازيں پروڈيوسرز کے ليے يہ لازمی قرار ديا گيا ہے کہ وہ سيٹ پر ہر وقت ايک ڈاکٹر، ايک نرس اور ايمبولينس کی دستيابی کو يقينی بنائيں۔

سولہ صفحات پر مشتمل ان نئے قوائد و ضوابط کو پروڈيوسرز گلڈ آف انڈيا نے حتمی شکل دی۔ اداکاروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سيٹ پر اپنے بال گھر سے بنا کر آئيں اور ميک وغيرہ بھی گھر ہی سے کيا جائے۔ کاسٹنگ ڈائريکٹرز کو ہدايت دی گئی ہے کہ وہ سپورٹنگ کرداروں کے ليے مرکزی اداکاروں کے قريبی رشتہ داروں کو ترجيح ديں تاکہ انجان لوگوں سے کم سے کم رابطہ کاری ہو۔

سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ ان تمام اقدامات کے بعد بڑے پردے پر بالی وڈ کی آئندہ آنے والی فلميں کيسی دکھيں گی؟

ع س / ا ب ا (اے ايف پی)

ملتے جلتے مندرجات