کورونا وائرس کی نئی بھارتی قسم، برطانیہ جرمنی کے لیے خطرہ؟ | صحت | DW | 22.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کورونا وائرس کی نئی بھارتی قسم، برطانیہ جرمنی کے لیے خطرہ؟

جرمنی اس نئے وائرس کو بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ جرمن طبی حکام کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم کی افزائش کے بعد اس ملک کو بھی ہائی رسک والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔

جرمنی ایسی سوچ رکھتا ہے کہ برطانیہ کو 'وائرس کی ہیت میں تبدیلی والا ملک‘ قرار دیا جائے۔ متعدی امراض پر تحقیق کے جرمن قومی ادارے نے یہ بات جمعہ اکیس نومبر کو کہی ہے۔ برلن حکومت اپنے قومی ادارے کی سفارشات کی روشنی میں اتوار تیئیس مئی کو برطانیہ پر سخت سفری پابندیاں نافذ کر دے گی۔

یورپی یونین میں با آسانی سفر کے لیے جلد ہی یکساں نوعیت کا ’گرین سرٹیفیکیٹ‘

ممکنہ سفری پابندیاں

جرمنی کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کی صورت میں برطانیہ سے صرف جرمن شہری ہی واپسی کا سفر اختیار کر سکیں گے۔ ایسے مسافروں کو جرمنی پہنچنے کے بعد دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ برطانیہ سے آنے والے شہری کے پاس منفی رپورٹ ہونے کے باوجود قرنطینہ کے دورانیے میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

Weltspiegel 14.05.2021 | Corona | Deutschland Inzidenz unter 100

جرمنی میں کورونا وائرس کے انفیکشن کا ریکارڈ رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ مرتب کرتا ہے

جرمن وزیر صحت کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کے لیے مشکل ہو گا لیکن اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ 'انڈین ویریئنٹ‘ سے محفوظ رہنا بھی بہت ضروری ہے۔ ترجمان کے مطابق انفیکشن کی شرح میں کمی لانے کے موجودہ عمل کو برقرار رکھنے کے لیے خطرناک متعدی 'ویریئنٹس‘ سے بچاؤ بھی اہم ہے وگرنہ مثبت اقدام بھی منفی ہونا شروع ہو جائیں گے۔

کورونا:غیر ملکی امداد کی پہلی کھیپ بھارت پہنچ گئی

برطانیہ میں 'انڈین ویریئنٹ‘ کی نشاندہی

براعظم یورپ میں برطانیہ وہ پہلا ملک ہے، جس کی نشاندہی بطور 'وائرس ویریئنٹ ایریا‘ کے طور پر کی گئی ہے۔ جرمنی میں یہ خطرے یا رسک کی سب سے بڑی کیٹیگری ہے۔ اس کیٹیگری میں اس وقت ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کے گیارہ ملک شامل ہیں۔

وبا سے یورپی فٹ بال کلبوں کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا

ایسا خیال کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کا 'انڈین ویریئنٹ‘ سب سے خطرناک اور تیزی سے افزائش پانے والا وائرس ہے۔ برطانیہ میں کووڈ انیس کی وبا پھیلانے والے 'انڈین ویریئنٹ‘ کی تشخیص ساڑھے تین ہزار کے قریب مریضوں میں کی جا چکی ہے۔ ایسے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد بلیکبرن اور بولٹن کے قصبوں میں ہے۔ لندن کا ویسٹ ڈسٹرکٹ بھی اس وائرس کی قسم سے متاثر بتایا گیا ہے۔

ع ح، ا ا (ڈی پی اے)