کورونا وائرس کی نئی اقسام، حقائق کیا ہیں؟ | صحت | DW | 08.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کورونا وائرس کی نئی اقسام، حقائق کیا ہیں؟

گزشتہ برس دسمبر سے اب تک کورونا وائرس کی کئی نئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، جو چینی شہر ووہان میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے مقابلے میں کئی زیادہ متعدی ہیں۔

کورونا وائرس کی تیسری لہر سابقہ لہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس کی ایک کلیدی وجہ کورونا وائرس کی وہ نئی میوٹیشنز ہیں، جو بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ان نئی میوٹیشیشن سے متعلق کئی اہم سوال ہیں، جو ہم سب کے ذہنوں میں ہیں۔

فیکٹ چیک: لاکھوں امریکی شہریوں نے کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز کیوں نہیں لی؟

پاکستان ميں وینٹیلیٹرز کی تعداد بڑھانے کی کوشش

امریکی طبی ماہر  ڈاکٹر سٹیورٹ رے کے مطابق وائرس کے جین میں تبدیلی اس کی میوٹیشن یا نئے ویریئنٹ کا باعث بنتی ہے۔ 'جیوگرافک فاصلے کی وجہ سے نئے جینٹک ویریئنٹس پیدا ہوتے ہیں۔‘

متعددی بیماریوں سے متعلق امریکی ماہر ڈاکٹر رابرٹ بولینگر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سمیت کسی بھی وائرس میں میوٹیشن یا نئی اقسام کا پیدا ہونا کوئی اچھوتی بات نہیں۔ ڈاکٹر بولینگر کے مطابق، ''تمام آر اے اے وائرس وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل کی وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں۔  میوٹیشن کی رفتار تاہم کچھ وائرسوں میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر زکام کا وائرس نہایت تیز رفتاری سے تبدیل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ڈاکٹر فلو کے خلاف ہر سال نئی ویکسین کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘

کیا کورونا وائرس کی نئی میوٹیشن زیادہ خطرناک ہے؟

کورونا وائرس کی اب تک کئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، تاہم جنوبی افریقی قسم اور برطانوی قسم باعث تشویش ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں اقسام دوسری میوٹیشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ متعدی ہیں۔

اس کے علاوہ کورونا وائرس کی جنوبی افریقی میوٹیشن B.1.351 کے حوالے سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسٹرا زینیکا ویکسین کے حامل افراد کو بھی اس قسم نے کم یا درمیانی حد تک بیمار کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے شکار افراد بھی جنوبی افریقی میوٹیشن سے دوبارہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

Coronavirus- COVID-19 - Mikrografie

متعدی امراض کے انسداد کے امریکی ادارے کی جانب سے جاری کردہ کورونا وائرس کا ایک تصویری اظہاریہ

کیا ویکسین نئے ویرینٹس کے خلاف موثر ہو گی؟

ماہرین کے مطابق لیبارٹری مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہیں کہ بعض صورتوں میں ویکسینیشن کے باوجود کورونا وائرس کی نئی اسٹیرنز کے خلاف مدافعاتی ردعمل کم زور یا کم کارگر دیکھا گیا ہے۔

متعدی بیماریوں کے انسداد کے امریکی ادارے سی ڈی سی کی ویب سائٹ پر بھی درج ہے، ''ویکسینیشن کے حامل افراد سی ڈی سی کے ضوابط میں تبدیلی پر نگاہ رکھیں اور کورونا وائرس سے تحفظ کی ہدایات یعنی بار بار ہاتھ دھونے، سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال وغیر پر پر بدستور عمل کرتے رہیں، تاکہ انفیکشن کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔‘‘

کیا کورونا وائرس کی نئی اقسام بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی اقسام اور بچوں پر زیادہ اثرات کے درمیان ربط سے متعلق مکمل اعداد و شمار ابھی موجود نہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کو متاثر کرنے کے اعتبار سے کورونا وائرس کے پرانے اور نئے ویریئنٹس کے درمیان فرق واضح نہیں ہو سکا ہے۔ ماہرین کا تاہم یہ بھی کہنا ہے کہ اس حوالے سے مشاہدے اور مطالعے کی ضرورت ہے۔

کیا کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف مزید احتیاطی تدابیر کرنا ہوں گی؟

امریکی طبی ماہر ڈاکٹر بولینگر کے مطابق کورونا وائرس کی نئی اقسام کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نئی تدابیر کی ضرورت نہیں، تاہم تواتر کے ساتھ ہاتھ دھونے، سماجی فاصلہ رکھنے اور ماسک کے استعمال سے جس طرح ووہان میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کی روک تھام ممکن ہے، اسی طرح اس وائرس کی نئی اقسام بھی روکی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس معاملے پر بھی ماہرین مسلسل نگرانی کا مشورہ دے رہے ہیں۔