کورونا وائرس کی بھارت میں بھی دستک | حالات حاضرہ | DW | 24.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس کی بھارت میں بھی دستک

مہلک کورونا وائرس نے بھارت میں بھی دستک دے دی ہے۔ چین سے آئے دو بھارتی شہریوں میں کورونا وائرس کی ابتدائی علامات پائے جانے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

حکومت نے اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات شروع کردیے ہیں اور سات اہم ہوائی اڈوں پر چین سے آنے والے تمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ کی جارہی ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ چین سے ممبئی پہنچے دو بھارتی شہریوں کی تھرمل اسکریننگ سے یہ شبہ ہوا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ ممبئی ہوائی اڈے پر ڈاکٹروں نے ان کی ابتدائی جانچ کی جس سے شبہ کو مزید تقویت ملی۔ جس کے بعد انہیں شہر کے کستوربا گاندھی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے خصوصی وارڈ بنایاگیا ہے۔ حکام کے مطابق حکومت کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تاہم ان دونوں مشتبہ متاثرین کی تفصیلی طبی جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔
اس وقت بھات کے سات بین الاقوامی ہوائی اڈوں دہلی، ممبئی، کولکتہ، چنئی، بنگلورو، حیدرآباد اور کوچین میں بیرونی ممالک سے آنے والے تمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ کی جارہی ہے۔ چین سے آنے والے مسافروں پر خاص نگاہ رکھی جارہی ہے۔
حکومت نے گزشتہ دنوں ایک ایڈوائزی جاری کی تھی جس میں وزارت صحت نے وزارت خارجہ سے اپیل کی تھی کہ وہ چین کے ووہان شہر سے آنے اور جانے والے ان تمام مسافروں کی تفصیلات فراہم کرے جنہوں نے 31 دسمبر 2019 کے بعد سے بھارت کا سفر کیا ہے یا ویزا جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ سول ایوی ایشن کی وزارت اور بین الاقوامی سول ایوی ایشن آر گنائزیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام ایئرلائنز کمپنیوں کو یہ ہدایت دے کہ چین سے ہوکربھارت آنے والی تمام پروازوں سے بھارت میں اترنے والے کسی بھی بیمار شخص کی اطلاع حکومت کو فوراً دے۔

Sri Lanka Corona-Virus

بھارتی وزارت صحت نے وزارت خارجہ سے اپیل کی تھی کہ وہ چین کے ووہان شہر سے آنے اور جانے والے ان تمام مسافروں کی تفصیلات فراہم کرے۔


حکومت کی ہدایت کے بعد 22 جنوری تک تقریباً 13 ہزار مسافروں کی جانچ کی گئی۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی کورونا وائر س سے متاثر نہیں پایا گیا۔ لیکن آج جمعہ 24 جنوری کو ممبئی پہنچے دو بھارتی شہریوں میں اس مہلک وائرس کی علامات پائے جانے کے بعد حکومت کافی چوکنا ہوگئی ہے۔ اسپتالوں میں نازک حالت والے مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے اور وینٹی لیٹر منیجمنٹ کے سلسلے میں تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔ بھارتی وزارت صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزارت نے پونے میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے تحت 10 لیبارٹریوں میں وائرس کے نمونوں کی جانچ کے سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈائیگناسٹک لیباریٹریز نیٹ ورک کو بھی ایسے نمونوں کی جانچ کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔


اس دوران سعودی عرب میں ایک بھارتی نژاد نرس کے کورونا وائرس پازیٹیو پائے جانے کے ساتھ ہی اس وائرس سے متاثر ہونے والے بھارتی شہریوں کی تعداد بڑھ کر دو ہوگئی ہے۔ نائب وزیر خارجہ وی مرلی دھرن نے بتایا کہ سعودی عرب کے الحیات اسپتال میں کام کرنے والی کیرالا کی نرس کورونا وائرس سے متاثر پائی گئی ہے۔ اس کے بعد کیرالا کے وزیر اعلٰی نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے خلیجی ملک کے سامنے یہ معاملہ اٹھانے اور تمام ضروری علاج یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ووہان میں دہلی کی رہنے والی ایک اسکول ٹیچر کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ مذکورہ خاتون ابھی چین میں ہی زیر علاج ہیں۔
بھارتی وزارت صحت کی سیکرٹری پریتی سودان نے دہلی میں میڈیا کوبتایا، ”وزارت صحت کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے ہے اور حالات کا مستقل جائزہ لے رہی ہے۔ وہ اس معاملے میں سول ایوی ایشن کی وزارت، وزارت خارجہ، ہیلتھ ریسرچ ڈپارٹمنٹ اور چین میں بھارتی سفارت خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM