کورونا وائرس کہاں سے آیا، یہ جاننا کیوں ضروری؟ | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس کہاں سے آیا، یہ جاننا کیوں ضروری؟

سارس کوو- ٹو سب سے پہلے چمگادڑوں میں پایا گیا تھا لیکن یہ آخر انسانوں تک کیسے پہنچا؟ یہ موضوع سب سے زیادہ قیاس آرائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب ڈبلیو ایچ او کے محققین اس کی تحقیق کر رہے ہیں۔

 کورونا وائرس کس حد تک انسانوں کو نقصان پہنچا سکتا تھا، اس امر کا اندازہ تو اب دنیا کے تمام متاثرہ خطوں کی صحت، اقتصادیات، معاشی اور معاشرتی صورتحال سے ہو گیا ہے تاہم ابھی تک یہ امر ایک معمہ یا پہیلی ہی بنا ہوا ہے کہ آخر یہ انسانوں تک کس طرح منتقل ہوا؟ چودہ جنوری بروز جمعرات کو ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کی ایک ٹیم چین پہنچ گئی ہے، جو یہ پتا لگائے گی کہ مہلک کورونا وائرس آیا کہاں سے؟

ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جب دسمبر 2019ء میں چین میں کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی بیماری کووڈ انیس کا پہلا کیس درج ہوا تھا۔ ماہرین اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ وائرس کب اور کہاں پیدا ہوا؟ تاہم اب تک کے شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کورونا وائرس چین میں 'ہورس شو‘ چمگادڑوں سے پھیلا۔ اس بارے میں ہونے والی تاحال تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ 2019 ء کے ماہ نومبر میں یہ وائرس یورپی ملک اٹلی میں گردش کر رہا تھا۔ یہ ایک طرح کی یاد دہانی ہے کہ متعدی بیماری کووڈ انیس کا پھیلنا اُس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے، جتنا کہ یہ نظر آتا ہے۔

China | Corona | Virusausbruch | Ermittler

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے اراکین سنگاپور سے اڑنے والی فلائٹ سے ووہان پہنچے۔

کورونا وائرس تحقیقی مشن

اس وقت یہ امر اہم نہیں کہ مریض کون ہے؟ ماہرین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ لوگ کیسے اور کب کورونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حال اور مستقبل دونوں میں متعدی بیماری کی وبا پھوٹنے سے بچنے کے لیے اس وائرس کے نقطہ آغاز تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔

اس طرح کسی بھی بیماری کے پھیلاؤ کے قابو سے باہر ہونے سے پہلے پہلے وبا کے آغاز میں ہی اگر اس کے نقطہ آغاز کا پتا چل جائے تو اس وبا کے پھیلاؤ کو سست رفتار بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر ہر کیس کی شناخت ہو جائے اور اس کے رابطے کا سراغ لگا لیا جائے تو مرض پھیلانے والے جرثومے کو روکا جا سکتا ہے۔

China | Corona | Virusausbruch | Ermittler

ووہان ایئرپورٹ کا ایک خصوصی ٹرمینل ڈبلیو ایچ او کی تحقیقاتی ٹیم کے لیے کھولا گیا۔

برطانیہ کی کیل یونیورسٹی سے منسلک ایک وائرولوجسٹ ناؤمی فورسٹر سوٹو کا کہنا ہے کہ اگر کسی وائرس کے پھیلاؤ کو ابتدائی طور پر روکنے کی مدت گزر بھی گئی ہو، جیسے کہ SARS-CoV-2 کے معاملے میں ہوا، تو بھی ایسی تحقیق 'بیماری کے منبع ‘ کا پتا لگانے کے لیے بصیرت فراہم کر سکتی ہے۔ سوٹو کے بقول،''بیماری کیسے اور کہاں سے نکلی، اس حوالے سے ہم جتنا زیادہ جان پائیں گے، اس کے بارے میں اتنی ہی زیادہ بہتر پیش گوئی کرتے ہوئے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘‘    

 ناؤمی فورسٹر سوٹو نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،''کورونا وائرس کیس میں ہمیں یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ ہم کچھ مخصوص جانوروں کے ساتھ اپنے رویے میں یا کھیتی باڑی میں کس طرح کی تبدیلی لا سکتے ہیں؟‘‘

شیلڈ چارلی ایلن / ک م/ اا

DW.COM

Audios and videos on the topic