کورونا وائرس کا خوف، پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی طاری، اربوں روپے ڈوب گئے | حالات حاضرہ | DW | 12.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس کا خوف، پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی طاری، اربوں روپے ڈوب گئے

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خوف پاکستانی معیشت پر بھی ظاہر ہونے لگا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ کاروباری افراد اور ادارے بھی کورونا کے خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خوف کی ایک تازہ جھلک آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی دیکھی گئی، جہاں کاروبار کے آغاز سے مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں رہی۔ ساتھ ہی زرمبادلہ مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی نسبت پاکستانی روپیہ آج بھی دباؤ کا شکار رہا۔ سرمایہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں آئل سیکٹر میں گراوٹ آئی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر شہزاد چامڈیہ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''تیل پیدا اور برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اور روس کے درمیان پیداوار میں کٹوتی کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی جنگ جاری ہے، بلکہ اب اس میں مزید شدت آتی جا رہی ہے، سعودی عرب نے طلب کے مقابلے میں خام تیل کی پیداوار مزید بڑھانے کا اعلان کیا، جس کے جواب میں روس نے بھی تیل کی فراہمی بڑھانے کا عندیہ دے دیا، اس چپقلش کے بعد مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت مزید گر گئی۔‘‘



شہزاد چامڈیہ نے مزید بتایا،'' اگر ان دونوں ملکوں کے درمیان تیل کا تنازعہ جلد حل نہیں ہوتا تو اس کے پوری دنیا پر اثرات دیکھے جا سکیں گے، چونکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ہنڈریڈ انڈیکس میں بڑا حصہ تیل کی کمپنیوں کا ہے۔ اس ليے خام تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے ان کے شیئرز بھی نیچے آ گئے، جس کی وجہ سے مارکیٹ پر دباؤ آیا اور مارکیٹ بدترین مندی کی لپیٹ میں آ گئی، بلکہ ایک موقع پر کاروباری سرگرمیوں کو بند بھی کرنا پڑا۔‘‘

امریکی خام تیل کی قیمت دو ڈالر پانچ سینٹس فی بیرل کمی کے بعد تیس ڈالر تیرانوے سینٹس پر آ گئی، جبکہ برطانوی برینٹ کروڈ کی قیمت دو ڈالر چودہ سینٹس کم ہو کر تینتیس ڈالر پینسٹھ سینٹس فی بیرل پر آ گئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ نہ صرف امریکا، یورپ اور ایشیائی مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان ہے، بلکہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بھی سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔

پاکستان اسٹاک یکس چینج کے سابق ڈائریکٹر ظفر موتی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''مارکیٹ کے سرمایہ کار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کے منتظر ہیں۔ دنیا بھر میں شرح سود کم ہوئی ہے۔ لیکن یہاں ابھی تک کوئی فوری فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار تذبذب میں مبتلا ہیں، اگرچہ افراط زر کی شرح بارہ فیصد پر آ گئی ہے، مرکزی بینک کے پاس پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش بھی ہے، اس کے باوجود سرمایہ کار پریشانی سے دوچار ہیں، اس کے ساتھ ہی کورونا وائرس نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کو ہلا دیا ہے، اسی لیے پی ایس ایکس میں بھی مندی ہے، جبکہ شرح مبادلہ میں بھی یومیہ بنیاد پر اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘

پاکستان میں گوکہ کورونا وائرس اس قدر نہیں پھیلا ہے جتنا اس نے دنیا کے دوسرے ملکوں کو متاثر کیا ہے، پھر بھی ایک خوف کی فضا موجود ہے، اور سرمایہ کار بھی اس فضا کا حصہ ہیں۔

اسٹاک بروکر محمد جبران نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا،''پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں یومیہ اربوں روپے کا کاروبار کیا جاتا ہے، لیکن مارکیٹ میں اب مندی کی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا پیسہ ڈوب رہا ہے۔ دو ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں چھ ہزار پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کافی سرمایہ کار مارکیٹ سے نکل چکے ہیں اور جو موجود ہیں وہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسٹاک انتظامیہ کی جانب سے سرمایہ کاروں کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے مارکیٹ کو بند بھی کیا گیا تاہم اس کے باوجود خوف دور نہیں ہو رہا۔‘‘

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی کاروبار کے آغاز سے ہی مندی دیکھی گئی۔ تیرہ سو چوبیس پوائنٹس کمی کے بعد مارکیٹ کو کچھ وقت کے لیے بند کیا گیا، لیکن کاروبار دوبارہ بحال ہونے کے بعد بھی انڈیکس میں مزید کمی ہوئی۔ کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس میں سترہ سوسولہ پوائنٹس کی  شدید مندی سے چھتیس ہزار کی سطح بھی برقرار نہ رہ سکی۔ انڈیکس پینتیس ہزار نو سو چھپن پر بند ہوا۔ ایک دن میں انڈیکس سترہ سو سولہ پوائنٹس  کم ہونے سے مارکیٹ کییٹلائزئشن میں دو سو پچاس ارب روپےکمی ہو گئی۔

DW.COM