کورونا وائرس ’میک ان انڈیا‘ کے لیے کتنا مفید ہوسکتا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 25.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس ’میک ان انڈیا‘ کے لیے کتنا مفید ہوسکتا ہے؟

کورونا بحران کے بعد کے دور میں کئی امیر ممالک چین پر اپنا انحصار کم کرنے پر غور کررہے ہیں ایسے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس سے بھارت کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

چین پر سب کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلنے کی بنیادی جگہ کے لحاظ سے اور کاروبار کرنے کی جگہ کے اعتبار سے بھی۔ امریکا اس کے خلاف سب سے زیادہ کھل کر بول رہا ہے لیکن کچھ دیگر ممالک بھی اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر کا کام کاج دوسری جگہ لے جانے پر غور کررہے ہیں۔

کمپنیاں اس لیے بھی دیگر متبادل کی تلاش میں ہیں کیوں کہ چین میں مزدوری لاگت کافی زیادہ ہوگئی ہے اور ماحولیات کے سلسلے میں قوانین مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ان سب کے درمیان کورونا وائرس کی وبا نے چین کے لیے حالات مزید مشکل بنادیے۔

بھارت کے لیے اس میں بڑے مواقع ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت معیشت کو سنبھالنے کے لیے 20 کھرب روپے (266 ارب ڈالر) کے پیکج کا اعلان کرچکی ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریبا ً 60 ارب ڈالرچھوٹے کاروباریوں، قرض دہندگان اور توانائی کی کمپنیوں کو قرض کے طور پر فراہم کرائے جائیں گے۔ان اسکیموں کا مقصد بھارت کو ایک پرکشش پارٹنر ملک کے طور پر قائم کرنا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے مطابق، ”ان اصلاحات سے کاروبار کو فروغ ملے گا، سرمایہ آئے گا اور 'میک ان انڈیا‘ کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔"

بھارت نے اپریل میں 'پروڈکشن لکنڈ انسینٹیو اسکیم (پی ایل آئی) فار لارج اسکیل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ‘  کے نام سے ایک  نئی حوصلہ افزا اسکیم کا آغاز کیا۔ یہ اسکیم موبائل فون بنانے والی اور خصوصی الیکٹرانک پرزے بنانے والی کمپنیوں کے لیے ہے تاکہ انہیں کام شروع کرنے یا اپنی گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحت کو مزید بہتر بنانے کی سمت میں اقتصادی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

تکنیکی اشیاء کی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو یکم اگست 2020 سے 2025 کے درمیان پانچ سال کی مدت تک 'میڈ ان انڈیا‘ پروڈکٹس پر 4 سے 6  فیصد تک حوصلہ افزائی دی جاسکتی ہے۔ حکومت کے مطابق الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں مجموعی عالمی کاروبار میں بھارت کی حصےداری 2012 کے 1.3  فیصدسے بڑھ کر 2018 میں 3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ نئی اسکیم کا مقصد اس حصہ داری کو مزید بڑھانا ہے۔

Tim Cook und Narendra Modi in Neu Delhi

ایپل کمپنی کے سی ای او ٹم کک بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے

ایپل کی پہل

حال ہی میں خبر آئی کہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل ایپل اپنے کچھ پروڈکشن یونٹوں کوچین سے باہر نکال کر بھارت منتقل کرسکتی ہے۔ بھارت سرکار کی نئی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی وہ پہلی بڑی کمپنی بن سکتی ہے۔ اب تک ایپل نے اس کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن بھارتی بزنس ڈیلی 'اکنامک ٹائمز‘ نے خبر شائع کی تھی کہ ایپل کی بھارت سرکار کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے کہ اگلے پانچ سال میں کمپنی تقریباً 40 ارب ڈالر کی قیمت کے آئی فون بھارت میں ہی بنائے گی۔ فاکس کان اور ویسٹران جیسے ایپل کے موجودہ کانٹریکٹروں کے ساتھ پروڈکشن صلاحیت میں اضافہ کر کے اس ہدف کو حاصل کرنے کی بات ہورہی ہے۔ بھارت سرکار کے ایک سینیئر افسر کے حوالے سے اخبار نے لکھا، ”کمپنی دراصل بھارت کو اپنے مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ بیس کے طور پر ڈیویلپ کر نے پر غور کررہی ہے۔ اس کا مقصد اپنے پروڈکشن کوچین سے باہر بھی نکالنا ہے۔"

اگر اس رپورٹ کو درست مانیں تو ایپل بھارت کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بن کر ابھر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ کمپنی چین کے اپنے تقریباً 20 فیصد پروڈکشن کو بھارت لے آئے گی۔ سال 2018-19 میں ایپل نے چین میں تقریباً 220 ار ب ڈالر مالیت کا پروڈکشن کیا۔ بھلے ہی اس طرح کی خبریں اب سامنے آرہی ہوں لیکن سمجھا جاتا ہے کہ ان کی بنیاد دسمبر 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ایپل اور سیمسنگ جیسی کمپنیوں کے اعلی افسران کے ساتھ ملاقات کے وقت ہی رکھی گئی تھی۔

'میک ان انڈیا‘ کو گلوبل ٹریڈ مارک بنانے کا موقع

کسی بھی کمپنی کے لیے اپنے رسک کو کم کرنے کی کوشش کرنا ایک متوقع عمل ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان اس بات پر دھیان دینا ہوگا کہ صرف اکا دکا کمپنیاں ایسا کر رہی ہیں یا بھارت میں اپنے پروڈکشن سینٹر کھولنے کا کوئی منصوبہ بند رجحان دکھائی دے رہاہے۔ 85 ملکوں میں سرگرم بین الاقوامی آڈٹ کمپنی کیو آئی ایم اے نے فروری کے اواخر میں بین الاقوامی سپلائی چین والی تقریباً 200 کمپنیوں کے ساتھ ایک سروے کروایا تھا۔ سروے میں شامل کمپنیوں میں سے 87 فیصد کا خیال تھا کہ موجودہ حالات کی وجہ سے وہ اپنے سپلائی چین کو تبدیلی کرنے کے لیے مجبور ہوجائیں گی۔ کیو آئی ایم اے نے 2020 کی دوسری سہ ماہی کو بھی چین کے لیے بہت اچھا نہیں بتایا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ مینوفیکچرنگ دوبارہ شروع ہونے پر بھی چین کو مانگ میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بحران کے اس دور میں چونکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ کمپنیوں کا سپلائی چین کے لیے کسی ایک ذریعہ پر زیادہ منحصر کرنا کتنا خطروں سے پر ہوسکتا ہے۔ اس لیے ایسے ماحول میں بھارت کے پاس اپنے 'میک ان انڈیا‘ کے نعرے کو گلوبل ٹریڈ مارک میں تبدیل کرنے کا ایک بڑا موقع ہے۔

ٹموتھی کک/  جاوید اختر، نئی دہلی

DW.COM