کورونا وائرس: متاثرین کی عالمی تعداد نو کروڑ سے بڑھ گئی | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس: متاثرین کی عالمی تعداد نو کروڑ سے بڑھ گئی

دنیا بھر میں کورونا سے متاثرین کی تعداد نو کروڑ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس سے بچاؤ کی کوششوں میں تیزی آ رہی ہے۔

امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد نو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت آئی ہے جب بین الاقوای سطح پر طبی ماہرین اور حکام وائرس کی روک تھام کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

جانز ہاپکنز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس ہفتوں کے دوران کووڈ کیسز کی تعداد دوگنی ہوئی ہے۔ اکتوبر کے آخر میں متاثرین کی تعداد تقریبا ساڑھے چار کروڑ تھی جبکہ اب یہ تعداد نو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

گزشتہ ایک برس کے دوران یہ وبا بیس لاکھ افراد کی جان لی چکی ہے۔

برطانیہ اور آئر لینڈ کی صورت حال

برطانیہ نے ویکسین مہم تیز کرنے کے لیے اس ہفتے سے سات بڑے ویکسینیشن مراکز کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ فی الوقت برطانیہ میں روزانہ دو لاکھ لوگوں کو ویکیسن دی جا رہی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ ماہ فروری کے وسط تک تمام کمزور افراد کو یہ ویکیسن لگائی جا سکے۔ اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے برطانیہ میں ہر ہفتے بیس لاکھ افراد کو ویکسین لگانی ہوگا۔

ویڈیو دیکھیے 03:39

کیا دو میٹر کا سماجی فاصلہ، کورونا سے بچاو کے لیے کافی ہے؟

توقع ہے کہ پیر کو برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک ویکسین کے بڑے منصوبے کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا ہے، "برطانیہ میں وبائی امراض سے باہر آنے میں ہمارا منصوبہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا، لیکن ہم سب کو گھروں میں رہنا چاہیے اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو ہاتھ اور چہرے سے متعلق قواعد پرعمل کرنے کرنا نہ بھولیں۔‘‘  

اس دوران شمالی آئرلینڈ کے وزیر صحت رابن سوان نے اتوار کے روز کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے ان کے علاقے میں محکمہ صحت کا نظام سخت دباؤ میں ہے۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا، ''ہمارے صحت کے نظام پر آج سے پہلے اتنا دباؤ کبھی نہیں تھا، آپ اپنا کردار ادا کیجیئے، اصول و ضوابط پر عمل کریں اور آپ کو معلوم ہے کہ کرنا کیا ہے۔‘‘

ان کا یہ بیان برطانیہ کے ایک ہسپتال کی جانب سے اس بیان کے فوری بعد آیا ہے جس میں ہسپتال نے چھٹیوں پر گئے تمام عملے سے مدد کے لیے سوشل میڈیا پر اپیل کی تھی۔

شمالی آئر لینڈ نے کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے اکتوبر کے بعد سے لاک ڈاؤن جیسی تدابیر اپنائی ہیں تاہم اس کے باوجود کیسز میں کمی آنے کی بجائے کافی اضافہ ہوا ہے۔

ص ز/ش ج (اے ایف پی، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:34

کورونا وائرس کا علاج، جانوروں کی اینٹی باڈیز سے

DW.COM