کورونا وائرس: صحت یابی کے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی | صحت | DW | 20.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کورونا وائرس: صحت یابی کے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی

چینی طبی محققین نے کورونا وائرس کے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں کے پھیپھڑوں پر اس وائرس کے دیرپا منفی اثرات کا پتا چلایا ہے۔ ایسے انسانوں کے پھیپڑوں کی کارکردگی مستقل کم ہو جاتی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی بیماری کووڈ انیس کے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں پر تحقیق کرنے والے چینی محققین نے دیکھا ہے کہ کئی متاثرین کے پھیپھڑوں میں دودھیا رنگ کی ایک ایسی بہت پتلی سی جھلی بن جاتی ہے، جو انسانی نظام تنفس کے اس اہم ترین حصے کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچاتی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک تقریباً سوا دو لاکھ انسان بیمار ہو چکے ہیں، جن میں سے دس ہزار سے زائد کا انتقال بھی ہو چکا ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ حوصلہ افزا ہے کہ مختلف ممالک میں اب تک کووڈ انیس کے اسی ہزار سے زائد مریض دوبارہ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

اس وائرس کے مریضوں کو کووڈ انیس کا شکار ہو جانے کے بعد قرنطینہ کے عرصے کے دوران جتنی بھی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے، ایک بار صحت یاب ہو جانے کے بعد وہ مطمئن ہوتے ہیں کہ اب ان میں اس جرثومے کے خلاف جسمانی مدافعت پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن یہ بات بھی زیادہ سے زیادہ صرف جزوی طور پر ہی درست قرار دی جا سکتی ہے۔

مکمل صحت یابی؟

یہ کہ اس وائرس کے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں کے پھیپھڑوں کو دیرپا بنیادوں پر نقصان پہنچتا ہے، یہ بات طبی تحقیق کرنے والے ماہرین کے علم میں آ گئی ہے۔ لیکن کیا ایسا صرف کئی مریضوں میں انفرادی طور پر ہی دیکھنے میں آتا ہے یا ہر مریض کو ایسے طویل المدتی طبی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس امر کا تعین آئندہ مہینوں کے دوران کی جانے والی ریسرچ سے ہی ہو سکے گا۔

کورونا وائرس کی نئی قسم انسانی نظام تنفس کے زیریں حصوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے، یہ بات یوں بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ کووڈ انیس کے مریضوں کو ناک کے نتھنوں اور گلے میں کسی غیر معمولی طبی شکایت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے مقابلے میں انہیں جو خشک کھانسی آتی ہے، سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے اور بات پھیپھڑوں کی سوزش تک بھی پہنچ سکتی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس انسانی جسم میں سانس لینے کے نظام کے سب سے اندرونی حصے پر زیادہ شدید حملہ کرتا ہے۔

ہانگ کانگ میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے صحت یاب ہو جانے والے کئی مریضوں کا تفصیلی طبی مشاہدہ کیا، تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان میں کئی افراد کو بہت جلد سانس پھول جانے اور پھیپھڑوں کی معمول کی کارکردگی میں کمی کے مسئلے کا سامنا تھا۔ ایسے سابقہ مریضوں کی شرح اگرچہ بہت زیادہ نہیں ہے، تاہم ماہرین ان میں نظر آنے والے ایسے دیرپا اثرات کو نظر انداز کرنے پر آمادہ بھی نظر نہیں آتے۔

پھیپھڑے بیس سے تیس فیصد تک متاثر

ہانگ کانگ کے پرنسس مارگریٹ ہسپتال کے عفونتی بیماریوں کے علاج کے مرکز کے میڈیکل ڈائریکٹر اوئن سانگ تاکیِن کہتے ہیں، ''کئی زیر مشاہدہ مریضوں یا سابقہ مریضوں میں پھیپھڑوں کی معمول کی کارکردگی میں بیس سے تیس فیصد تک کمی آ چکی تھی۔ اگر وہ ذرا سا بھی تیز چلنے کی کوشش کریں، تو ان کی سانس پھولنے لگتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر تاکیِن کہتے ہیں، ''ہم نے جب ان افراد کی کمپیوٹر ٹوموگرافی کی، تو دیکھا کہ ان میں سے کئی افراد کے پھیپھڑوں میں ایک ایسی بہت باریک دودھیا سی جھلی موجود تھی، جو دیکھنے میں دھند جیسی نظر آتی تھی اور جس سے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

ہانگ کانگ میں ریسرچرز اب جس نتیجے پر پہنچے ہیں، اس سے ان نتائج کی بھی تصدیق ہو گئی ہے، جن تک چینی شہر ووہان میں طبی ماہرین گزشتہ ماہ فروری میں پہنچے تھے۔ تب ووہان یونیورسٹی ہسپتال میں 140 کے قریب مریضوں کے پھیپھڑے اسکین کیے گئے تھے اور ان سب میں اسی طرح کی پتلی سی دودھیا جھلی دیکھنے میں آئی تھی۔

پھیپھڑوں میں فائبروسس کا شبہ

کووڈ انیس کے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں کے آئندہ مہینوں میں کیے جانے والے طبی مشاہدوں سے یہ پتا چلا لینے کی امید کی جا رہی ہے کہ آیا نیا کورونا وائرس پھیپھڑوں میں فائبروسس کی وجہ بنتا ہے۔ پھیپڑوں کے فائبروسس کا کوئی علاج اب تک اس لیے دریافت نہیں ہو سکا کہ اس عمل کے دوران جو بہت چھوٹی چھوٹی گلٹیاں پھیپھڑوں کے عضلات میں بن جاتی ہیں، وہ ختم نہیں ہوتیں۔

فائبروسس ایک ایسا مرض ہے، جس میں مریض کے پھیپھڑوں کو ایک عضو کے طور پر شکل دینے والے عضلات میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے آکسیجن کی نقل و حمل کرنے والی خون کی شریانیں متاثر ہوتی ہیں ۔ یوں ان شریانوں کی آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور اسی لیے پھیپڑوں کی مجموعی کارکردگی بھی۔

ایسے منفی اثرات زیادہ ہوں تو پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ فرد کی جسمانی کارکردگی بھی اس حد تک کم ہو جاتی ہے کہ اس کے لیے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔

آلیکسانڈر فروئنڈ / م م