کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین، ایک حساس مسئلہ | معاشرہ | DW | 22.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین، ایک حساس مسئلہ

کوڈ انیس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین میں مرنے والے کے عقیدے کا خیال رکھا جائے یا پھر وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے؟ یہ معاملہ پاکستان میں ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔

نئے کورونا وائرس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں اس سوال پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ اس وائرس سے وفات پا جانے والے لوگوں کی آخری رسومات کے عمل کو مرنے والے کے اعتقاد کے مطابق کس طرح محفوظ بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ وائرس کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مرنے والے کی تدفین ایک حساس مسئلہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے مرنے والے کے دینی عقائد اور اس کے خاندان کی رضامندی کے مطابق سرانجام دیا جائے۔

اگرچہ صحت کے حوالے سے کام کرنے والے کئی عالمی اداروں اور بعض ترقی یافتہ ملکوں نے اس ضمن میں گائیڈ لائنز تیار کر لی ہیں لیکن پاکستان میں اسلامی تعلیمات کے مطابق تجہیز و تکفین کے عمل کے دوران کن احتیاطی تدابیر کو سامنے رکھنا چاہیے؟ اس ضمن میں حکومتی حلقوں کی طرف سے ابھی تک کوئی گائیڈ لائینز سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:کورونا: سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں، ایک پاکستانی بھی ہلاک

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر اور ممتاز مذہبی رہنما ڈاکٹر فرید پراچہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات تو ضرور کیے جانا چاہییں لیکن پاکستان جیسے اسلامی ملک میں مغربی ممالک کی تقلید میں اسلامی اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔  ان کے بقول، '' اسلامی تعلیمات کے مطابق میت کو غسل دینا اور اس کا جنازہ پڑھنا ضروری ہے، البتہ اسلام نے نماز جنازہ کو فرض کفایہ قرار دیا ہے یعنی اگر چند لوگ بھی نماز جنازہ پڑھ لیں گے تو یہ ادا ہو جائے گی، اس کے لیے بڑے ہجوم کو اکٹھا کرنے کی شرط نہیں ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں فرید پراچہ کا کہنا تھا کہ علمائے کرام اور طبی ماہرین کے مشورے سے اسلامی تعلیمات کے مطابق تدفین کے عمل سے وابستہ افراد کو محفوط طریقے سے یہ عمل سرانجام دینے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجہیز و تکفین کی اسلامی تعلیمات سے تو انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے ہر مسلمان کے لیے تدفین اور نماز جنازہ کا اہتمام ضروری ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ مرنے والے کی یاد میں فی الحال بڑے بڑے تعزیتی اجتماعات منعقد کرنے سے گریز کیا جائے اور ایمرجنسی کے دنوں میں گھر پر رہ کر مرنے والے کے لیے دعا کی جائے اور تعزیت کے لیے فون، خط یا ابلاغ کے دیگر طریقوں کو استعمال کر کے مرحوم کے لواحقین سے رابطہ کیا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے مطابق اسلامی تعلیمات کے مطابق موجودہ صورت حال میں جن لوگوں میں کورونا سمیت کسی بھی سنگین بیماری کی علامات پائی جا رہی ہوں انہیں بھی نماز جنازہ کے اجتماع میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ان کی وجہ سے نماز کے دوسرے شرکا ممکنہ طور پر بیماری سے متاثر نہ ہو جائیں۔ ان کے خیال میں ملک کے طبی ماہرین کو چاہییے کہ وہ اس ضمن میں لوگوں کی رہنمائی کریں اور انہیں آگاہی دیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں تمام بین الاقوامی پروازیں بند

پاکستان کے ممتاز طبی ماہر اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر راشد ضیا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے وفات پا جانے والے مریضوں کی تجہیز و تکفین کی گائیڈ لائنز سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ زندہ بچ رہنے والوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جائے، اگر ہمارے لوگ عوامی مقامات پر جانے سے احتیاط کریں، متوازن غذا کھائیں اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کریں تو کورونا کا مقابلہ زیادہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ طبی ماہرین کی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کروایا جائے۔  ڈاکٹر راشد ضیا کے مطابق تدفین کا اسلامی طریقہ سائنسی اعتبار سے محفوظ اور درست ہے اور قبرستانوں کی صفائی اور سکیورٹی کے انتظامات کو بھی بہتر بنایا جانا چاہیے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ہفتے کی شام تک کورونا کے پانچ سو چونتیس کیسز کی تصدیق کی گئی ہے، اور اب تک چار افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستان نے سنگین صورت حال کے پیش نظر تمام بین الاقوامی پروازوں پر بھی عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic