کورونا وائرس: بھارت میں مذہبی رنگ دینے کی کوشش | حالات حاضرہ | DW | 31.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس: بھارت میں مذہبی رنگ دینے کی کوشش

دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے سرگرم تبلیغی جماعت کے بھارتی دارالحکومت میں واقع عالمی مرکز میں موجود متعدد افراد میں کووڈ انیس کی مبینہ تصدیق کے بعد اس وبا کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔

ماہرین سماجیات اور دانشور اس رجحان کو بھارت کے لیے کورونا وائرس سے زیادہ مہلک قرار دےرہے ہیں جہاں منگل 31 مارچ کو ملک بھر میں متاثرین کی تعداد چودہ سو سے زیادہ اور ہلاک ہونےوالوں کی تعداد پچاس کے قریب پہنچ گئی ہے۔

میڈیا میں پیر 30 مارچ سے یہ خبر پورے زور و شور سے نشر کی جا رہی ہے کہ دہلی میں بستی حضرت نظام الدین میں واقع بنگلہ والی مسجد کے نام سے مشہور تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز سے ایسے ایک ہزار سے زائد لوگوں کو پکڑ کر مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے جو حکومت کیحکم عدولی کرتے ہوئے مسجد میں موجود تھے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان میں سے مبینہ طور پردو درجن افراد میں کو رونا وائرس پازیٹیو پایا گیا ہے جب کہ اس مسجد سے واپس جانے والے چھ لوگوں کی اس بیماری سے موت واقع ہو چکی ہے۔ اس خبر نے پورے بھارت میں کھلبلی مچا دی اورایک مخصوص حلقہ کورونا کی مہلک وبا کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے میں مصروف ہوگیا ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کرنے والے آٹھ سو انڈونیشیائی شہریوں کو بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے، انہیں اب بھارت کا ویزانہیں دیا جائے گا۔ دہلی کے وزیر صحت نے لیفٹیننٹ گورنر سے مسجد کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم تبلیغی جماعت کے نگراں مولانا یوسف اور امیر مولانا سعد نے اس حوالے سے جو بیانات جاری کیے ہیں، وہ بالکل ہی مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ مولانا یوسف نے میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں کہا، "تبلیغی جماعت کے مرکز میں سال بھر ملک و بیرون ملک سے جماعتیں آتی رہتی ہیں۔ کورونا وائرس کے مدنظر ابتدائی احکامات کے بعد ہی مرکز کو بند کر دیا گیا تھا اور کوئی نئی جماعت نہیں آئی۔ لیکن کچھ لوگ پہلے سے وہاں موجود تھے اور چونکہ لاک ڈاون کے اعلان میں حکومت نے لوگوں کو جہاں ہیں وہیں رکنے کا حکم دیا تھا اس لیے مسجد سے تمام لوگوں کا انخلاءممکن نہیں ہو سکا۔"

Coronavirus in Nepal Kathmandu Muslim mit Mundschutz (Imago Images/Pacific Press/S. Shrestha)

تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرکار کے تمام احکامات کی پابندی کی ہے

تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد نے ایک آڈیو بیان جاری کر کے پورے معاملے کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے کہا، ”جماعت اور سرکاری حکام کے درمیان اس مسئلے کا حل نکالنے کی مسلسل بات چیت ہوتی رہی۔ ہم نے تمام سرکاری احکامات کی پابندی کی اور حکام نے بھی ہمارے ساتھ بھرپورتعاون کیا۔ لیکن ایسی کوئی صورت نہیں بن سکی کہ ان لوگوں کو مرکز سے منتقل کیا جا سکے۔ مسجد میں موجود کچھ لوگوں کو نزلہ زکام کی شکایت تھی انہیں مختلف ہسپتالوں میں بھیجا گیا۔ کل پیر کو بھی دو سو لوگوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی کابھی کورونا ٹیسٹ پازیٹیو نہیں آیا ہے۔"

مولانا سعد نے مزید بتایا، ”حکام نے مسجد میں موجود لوگوں کو ہسپتالوں میں بھیجنے کے لیے پیرکو ایک کیمپ لگایا تھا۔ میڈیا والوں کو بھی اس کی خبر مل گئی اور انہوں نے معاملے کا پورا رخ ہی دوسری طرف موڑ دیا اور ساری توجہ تبلیغی جماعت کی طرف مرکوز کر دی۔" تبلیغی جماعت کے امیر کا کہنا تھا کہ جس ایک شخص کے اسپتال میں کورونا سے موت ہونے کا دعوی کیا جا رہاہے اس کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔

بھارتی میڈیا کا ایک حلقہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ چونکہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں منعقدہ اجتماع میں شرکت کرنے والے سینکڑوں لوگ ملک کے مختلف حصوں میں اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہیں اس لیے صورت حال کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔

بھارتی دانشور اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے،”یہ ملک پہلے ہی کمیونل وائرس سے متاثر ہے اور ایسے میں اگر اس وائرس میں فرقہ پرستی کا رنگ ملا دیا گیا تو یہ بہت ہی بری چیز ہو گی اور یہ بھارت کے لیے قطعی اچھانہیں ہو گا۔"

انہوں نے حکومت اور بالخصوص پولیس سے بھی اپیل کی کہ وہ اس طرح کے معاملات کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہ کرے تاکہ اس وبا سے لڑنے کے لیے ملک کا ہر شہری اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کر سکے۔

جاویدا ختر، نئی دہلی

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات