کورونا وائرس اور روز گار کی عالمی منڈی کا بحران | معاشرہ | DW | 27.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کورونا وائرس اور روز گار کی عالمی منڈی کا بحران

اگرچہ COVID-19 سے ہونے والے  معاشی نقصان کا تعین ابھی باقی ہے ، لیکن جو بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس بحران سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائيں گے۔ ليکن چند سیکٹرز اس بڑی تکلیف سے بچ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پھیلنے سے دنیا بھر میں تقریباﹰ 25 ملین ملازمتوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے، کیونکہ وبائی امراض نے لاکھوں افراد کو گھر کے اندر ہی رہنے پر مجبور کیا ہے اور عالمی معیشت عملی طور پر ٹھپ پڑ چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں، دو ہزار آٹھ اور دو ہزار نو کے عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے بے روزگاری میں 22 ملین  کا اضافہ ہوا۔

تاہم، اقوام متحدہ کے ادارہ کا کہنا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا جاتا تو ملازمتوں میں ہونے والا نقصان 5.3 ملین سے کہيں کم ہو سکتا تھا۔ آئی ایل او نے کہا ہے کہ بے روزگاری میں اضافہ کام کرنے والوں کی ميں 3.4 ٹریلین ڈالر (3.1 ٹریلین یورو) کی کمی یا نقصان کا سبب بنے گی، کیونکہ وائرس کے پھیلنے کے معاشی اثرات ميں کام کے اوقات اور اجرت میں کمی بھی شامل ہو گی۔

سفر اور سیاحت کی صنعت سب سے زیادہ متاثر

ایئر لائن کمپنیوں کو کووڈ 19 کی وجہ سے  سب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کورونا وائرس پر قابو پانے کے اولين اقدامات ميں عالمی سفری پابندیاں شامل تھی۔ اس کی وجہ سے ایئر لائن کمپنیوں کو ہزاروں پروازیں منسوخ کرنا پڑی ۔ ایئر کینیڈا، اسکینڈینیوائی ایئر لائنز اور نارویجن ایئرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 20،000 سے زیادہ ملازمین کو اجتماعی طور پر فارغ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

ماہرین نے ملازمت میں مزید کٹوتیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے، خاص طور پر انتشار کی شکار یورپی منڈی میں، جو طویل عرصے سے زیادہ پیداوری صلاحیت اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مسائل  سے دوچار ہے۔ کمزور بیلنس شیٹ والی ایئر لائنز کو وبائی امراض سے بچنا اور اس طرح جوڑنا مشکل ہو سکتا ہے جس طرح برطانوی کیریئر فلائب نے کیا تھا۔

مہمان نوازی کی صنعت بھی بڑے پیمانے پر روک تھام کے اقدامات سے نمٹنے کے ليے جدوجہد کر رہی ہے۔ چين ہوٹل کمپنی میریيٹ، ہلٹن اور ہیات جیسے دیگر بڑے ہوٹلوں کی شاخوں کی ہزاروں ملازمتوں کو ختم کررہا ہے۔ یورپ میں، سویڈن کے سب سے بڑے ہوٹل گروپ، اسکینڈک نے کہا ہے کہ وہ 2 ہزار سویڈش کارکنوں کو برطرفی کے نوٹس جاری کرے گا۔

امریکہ کی طرف سے بدنما اشارے

چین اور اٹلی کے بعد امریکا کورونا سب سے زیادہ متاثرہ تیسرا ملک ہے، جہاں سے انتہائی ناخوشگوار اشارے مل رہے ہيں۔ 14 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے تک امریکا ميں بے وزگاری ميں 33 فیصد اضافے سے يہ تعداد 281،000 تک پہنچ گئی تھی۔ گولڈمین ساکس کے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے بے روزگاری کی شرح 2.25 ملین ریکارڈ کی گئی ہوگی- یہ 1982ء میں ریکارڈکی جانی والی ماضی کی نچلی ترين شرح سے تین گنا زیادہ ہے۔

بلومبرگ کی رپوٹ کے مطابق فیڈرل ریزرو بینک آف سینٹ لوئس کے صدر جیمز بلارڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ دوسری سہ ماہی میں امریکا ميں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تک مزيد گرے گی اور مجموعی قومی پيداوار ميں 50 فیصد کی غیر معمولی کمی متوقع ہے۔

آشوتش پانڈے، ک م / ع ا

 

DW.COM