کورونا وائرس: امریکا میں ہلاکتیں ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئیں | حالات حاضرہ | DW | 28.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس: امریکا میں ہلاکتیں ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئیں

امریکا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 17 لاکھ کے قریب ہے جبکہ اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد کووڈ 19 سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ممکنہ صدارتی امیدار جو بائیڈن کا کہنا ہے ان اموت سے بچا بھی جا سکتا تھا۔

جرمنی میں رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 353 مزید کیسز سامنے آئے ہیں اور اس طرح متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 79 ہزار 717 ہوگئی ہے۔ اس دوران ملکی سطح پر 62 مزید افراد کووڈ 19 سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ جرمنی میں اب تک اس بیماری سے آٹھ ہزار 411 افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم دیگر یوروپی ممالک کے مقابلے میں اموات کی شرح کافی کم ہے۔

اس دوران یورپیئن کمیشن نے کورونا وائرس سے خطے کی تباہ حال معیشت کی بحالی کے لیے آٹھ سو 21 ارب ڈالر کے ایک امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔  اس کا اعلان کرتے ہوئے کمیشن کی صدر ارسلا ونڈر لیئین نے برسلز میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ''میرے خیال سے ہمارے سامنے بالکل نئی صورتحال ہے اور اسی لیے نئے راستوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔'' 

کمیشن کی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ کورونا وائرس کی وبا سے یورپی یونین کے بازار کو زبردست جھٹکا لگا ہے اور اس کی بحالی سب کے لیے مفید ہوگی۔ ''کوئی بھی رکن ملک بذات خود ایسا نہیں کر پا رہا ہے، یہ سب ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر بھی ہیں۔''

امریکا میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے سبب امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 47 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ادارے کے مطابق اس وقت امریکا میں کووڈ19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 17 لاکھ کے قریب ہے۔ امریکا میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 21 جنوری کو سامنے آیا تھا اور جس شخص میں اس وائرس کی پہلی بار تشخیص ہوئی تھی وہ چین کے سفر سے واپس آئے تھے۔ عالمی سطح پر اس وبا سے امریکا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

 امریکا میں آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ممکنہ صدارتی امیدار جو بائیڈن نے ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اچھی پلاننگ کی گئی ہوتی تو اتنی تعداد میں اموات سے بچا جا سکتا تھا۔ 

USA Corona-Pandemie | New York (Reuters/J. Moon)

امریکا میں تازہ صورتحال یہ ہے کہ اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد فوت ہوچکے ہیں اور یومیہ تقریبا ًایک ہزار افراد ہلاک ہورہے ہیں

انہوں نے اس سلسلے میں کولمبیا یونیورسٹی کی ایک نئی ریسرچ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت 13 مارچ سے ایک ہفتے قبل ہی لاک ڈاؤن اور بندشوں کا نفاذ کر دیتی تو کم سے کم 36 ہزار افراد کی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وبا کے آغاز پر امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد 50 سے 60 ہزار کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ لیکن مئی میں جب وبا شدت اختیار کر گئی تو انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ سے کم افراد ہلاک ہوں سکتے ہیں تاہم تازہ صورتحال یہ ہے کہ اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد فوت ہوچکے ہیں اور یومیہ تقریبا ًایک ہزار افراد ہلاک ہورہے ہیں۔   

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد تقریباً 57 لاکھ کے آس پاس ہے اور عالمی سطح پر اب تک اس وبا سے دو لاکھ 55 ہزار سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ متاثرین کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر برازیل ہے جہاں اس وقت متاثرین کی تعداد چار لاکھ 12 ہزار سے بھی زیادہ ہے اور اب تک 25 ہزار 598 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں برازیل میں 20 ہزار چھ سو مزید کیسز سامنے آئے اور ایک ہزار 86 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تیسرے نمبر پر روس ہے اور اس کے بعد بالترتیب برطانیہ، اسپین، اٹلی، جرمنی اور بھارت کا نام آتا ہے۔

اس دوران جنوبی کوریا میں مسلسل دوسرے روز بھی کورونا کے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 79 نئے کیسز درج کیے گئے ہیں جبکہ بدھ 27 مئی کو ہی حکام نے اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثنا ترکی کا کہنا اس نے اپنے ملک میں اس وبا پر تقریبا ًقابو پالیا ہے اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں وہاں اموت کی شرح کافی کم ہے۔

ص ز/  ج ا   (ایجنسیاں)

DW.COM