کورونا: نیدر لینڈ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کرفیو | حالات حاضرہ | DW | 26.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا: نیدر لینڈ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کرفیو

نیدرلینڈ میں ملک گیر کووڈ کرفیو کے خلاف نوجوانوں کے گروپوں نے دوسری رات بھی مختلف شہروں اورقصبوں میں توڑ پھوڑ مچائی۔ کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی بھی خبریں ہیں۔

نیدر لینڈ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد نافذ ہونے والے پہلے ملک گیر کرفیو کے بعد دارالحکومت سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے ہو  رہے ہیں۔ منگل کے روز بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے۔ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے رات کے کرفیو سمیت کئی نئی بندشوں کا اعلان کیا تھا۔

ڈچ نیوز کے مطابق فسادات پر قابو پانے والی پولیس اور مظاہرین کے گروپوں کے درمیان ایمسٹرڈم اور ساحلی شہر راٹرڈم، مشرقی شہر آمرز فورٹ اور جنوبی شہر گلین سے جھڑپوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ پولیس نے ڈیڑھ سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

قومی نشریاتی ادارے این او ایس نے خبر دی ہے کہ راٹرڈم میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے پانی کی تیز بوچھاروں کا استعمال کیا۔

شہر کے میئر احمد ابو طالب نے ہنگامی حکم نامہ جاری کردیا جس کے بعد پولیس کو فساد بھڑکانے والوں کو گرفتار کرنے کے اختیارات مل گئے ہیں۔ راٹرڈم کی شہری کونسل نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا ”فسادات پر قابو پانے والی پولیس نے چارج سنبھال لیا ہے اور گرفتاریاں شروع کر  دی گئی ہیں۔‘‘ کونسل نے مزید لکھا ”تمام لوگوں سے ضروری درخواست کی جاتی ہے کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ دیں۔"

Holland Eindhoven | Coronakrise: Proteste gegen Lockdown

پولیس کے مطابق ”گذشتہ 40 سال میں یہ بد ترین فسادات ہیں۔"

چالیس برسوں میں بدترین فساد

حکومت نے اتوار کے روز کورونا پر قابو پانے کی کوشش کے تحت رات کے کرفیو اور بعض نئی بندشوں کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے ہی ملک کے متعدد شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین دکانوں میں لوٹ مار کر رہے ہیں اور ایک صحافی کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر پتھر پھینکے جارہے ہیں۔ مظاہرین نے پہلی رات ایک کورونا ٹیسٹنگ سینٹر کو بھی نذر آتش کردیا۔ کل دوسری رات بھی پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری رہا۔

 وزیر اعظم مارک روٹے نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں 'مجرمانہ تشدد‘ قرار دیا جبکہ پولیس کے مطابق ”گذشتہ 40 سال میں یہ بد ترین فسادات ہیں۔"

وزیر اعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ ناقابل قبول ہے۔ تمام افراد اس کو خوف ناک واقعے کے طور پر یاد رکھیں گے۔ یہ مظاہرے نہیں بلکہ مجرمانہ تشدد ہے اور اس کو اسی انداز میں لیا جائے گا۔‘‘  انہوں نے انشیڈے کے علاقے میں ہسپتال پر پتھر پھینکنے والے 'بے وقوفوں‘ کی بھی مذمت کی۔

ویڈیو دیکھیے 02:18

جب کووڈ انيس نے دس سالہ لورينزو سے اس کے دادا کو چھين ليا

ڈچ میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں ملک کورونا وائرس کی نئی قسم، کووڈ سے متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کی جد وجہد کررہا ہے وہیں سوشل میڈیا پر مزید پرتشدد مظاہروں کی اپیلیں کی جارہی ہیں۔

نیدر لینڈ میں کووڈ سے ساڑھے نو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ اب تک 13600 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کرفیو

نیدرلینڈ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی اس تنبیہ کے بعد کہ ملک میں کورونا انفیکشن کی نئی لہر کا خطرہ ہے اور کورونا کی نئی قسم زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے، ملک میں کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

حکومت نے کئی نئی بندشوں اور ضابطوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ رات نو بجے سے صبح ساڑھے چار بجے تک نافذ کرفیو کم از کم دس فروری تک جاری رہے گا۔ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک سو پندرہ ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ بعض معاملات میں رعایت بھی دی گئی ہے تاہم اس کے لیے حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

ج ا/ ص ز  (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM