کورونا، عمران خان کا موقف حقائق سے دور کیوں؟ | دستک | DW | 31.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

کورونا، عمران خان کا موقف حقائق سے دور کیوں؟

وزیراعظم کے حاميوں کی نظر میں اس وقت ملک میں اگر کوئی سحر انگیز لیڈر ہے جسے غریب اور نادار لوگوں کے مسائل کا احساس ہے، تو وہ صرف عمران خان ہیں۔

پچھلے دو ہفتوں میں وزیراعظم متعدد بار ٹی وی پر آ کر قوم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرتے دکھائی دیے ہیں۔

لیکن ان کے بیانات سے بے چینی اور غیریقینی کم ہونے کيبجائے بظاہر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ صوبوں میں اور ملک کے دیگر اہم اداروں میں وفاقی حکومت کی بوکھلاہٹ پر تشویش ہے۔

کورونا سے ''بوڑھوں‘‘ کو خطرہ ہے

پیر کی شب وزیراعظم نے ایک بار پھر قوم سے خطاب میں چاروں صوبوں میں جاری  لاک ڈاؤن کی مخالفت کی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ کورونا وائرس سے بنیادی طور پر بوڑھے لوگوں کو خطرہ ہے۔

اس ضمن میں انہوں نے نہ صرف عالمی ادارہ صحت کے موقف اور دنیا بھر سے آنے والے اعداد و شمار کو رد کیا بلکہ خود پاکستان کے اندر موجود بے شمار کیسز کو بھی نظر انداز کیا، جن ميں عمر رسيدہ افراد کے ساتھ نوجوان اور ادھیڑ عمر کے خواتین و مرد کی ہلاکتيں ہوئ ہیں۔

مودی نے لاک ڈاؤن پر معافی مانگ لی

عمران خان نے اپنے موقف کے حق میں بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وزیراعظم نریندر مودی کو ملک میں لاک ڈاؤن کرنے پر قوم سے معافی مانگنا پڑی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بھارتی وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ ریڈیو پر اپنی تقریر میں مودی نے بھارت کے لوگوں سے ان کی معاشی تکالیف بڑھ جانے پر ان سے معافی مانگی اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ لاک ڈاؤن جیسا مشکل فیصلہ کیوں ناگزیر ہے۔ اس تقریر کے بعد ان کی حکومت نے بھارت کے بعض سرحدی علاقوں میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے۔

کورونا ٹائیگر فورس

پیر کو اپنے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم نے واضح کیا کہ کورونا جیسے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس چین اور امریکا جیسے وسائل نہیں۔ ایسے میں انہوں نے ایک بار پھر ریاست مدینہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان اس وبا کا مقابلہ حکمت، ایمان اور اپنے نوجوانوں کے زور پر کر سکتا ہے۔

اس موقع پر عمران خان نے نوجوانوں پر مشتمل ''کورونا رلیف ٹائیگر‘‘ فورس اور وفاقی حکومت کی طرف سے ''کورونا رلیف فنڈ‘‘ قائم کرنے کا دوسری بار اعلان کیا۔ اس کا پہلی بار تذکرہ وہ چند دن پہلے خود ٹی وی پر آ کر کر چکے تھے۔ 

Shahzeb Jillani DW Mitarbeiter Urdu Redaktion

شاہ زیب جیلانی

تاہم انہوں نے ان خیالات کا زکر کرتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکام لوگوں کو گھروں پر رہنے کی ہدایات کر رہے ہیں، یہ ''کرونا ٹائیگر‘‘ کیسے لوگوں کے پاس جائیں گے؟ اس وقت پاکستان میں کئی بڑے بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ حفاظتی ماسک اور دستانوں کو ترس رہا ہے اور ان کے پاس خود حفاظتی سامان میسر نہیں۔ ایسے میں کورونا ٹائیگرز کو کون حفاظتی تربیت اور سامان مہیا کرے گا؟

کورونا ریلف فنڈ

پاکستان میں آفتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سرکار کی طرف سے خیراتی فنڈ قائم کر دینا ایک معمول کی روش رہی ہے، مثال کے طور پر زلزلہ متاثرین فنڈ، سیلاب متاثرین فنڈ، وغیرہ۔ اب وزیراعظم کے "کورونا رلیف فنڈ" کے بارے میں مبصرین حکومت سے یہ جاننے میں حق بجانب دکھائی دیتے ہیں کہ ابھی دو سال پہلے ہی ملک میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے "بھاشا ڈیم فنڈ" کی مہم چلائی، اس کی مد میں جو اربوں روپے جمع ہوۓ، ان کا کیا بنا؟

سیاست میں غلط بیانی کوئی نئی بات نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا سیاسی سفر بلند و بانگ دعوؤں اور غلط اعداد و شمار پیش کرنے سے بھر پور ہے، جس پہ وہ بعد میں کوئی معذرت بھی نہیں کرتے۔

لیکن مبصرین کے نزدیک اس وقت پاکستان جس قسم کےچیلنجز سے گزر رہا ہے اس میں جھوٹ، مبالغہ آرائی اور ضد کی روش ملک کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔

شاہزيب جيلانی /ک م

 

DW.COM