کورونا، سوا کروڑ پاکستانی بيروزگار ہو سکتے ہیں | حالات حاضرہ | DW | 03.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا، سوا کروڑ پاکستانی بيروزگار ہو سکتے ہیں

پاکستان میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس وبا کے سنگین اثرات ہو رہے ہیں اور اگر بہتری نہ آئی تو حکومت کے معاشی اعدادوشمار بکھر کر رہ جائیں گے۔

ملک میں پچھلے دو سال میں کاروباری سرگرمیاں پہلے ہے سکڑ گئی تھیں اور حکومت دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے قرضے لے کر بہ مشکل ملک چلا پا رہی تھی۔ ایسے میں ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کا عالمی بحران پاکستان کی مقروض معیشت کے لیے سنگین خطرات کا سبب بن رہا ہے۔

وفاقی حکومت کے ابتدائی اندازوں کے مطابق، کورونا وائرس کے بحران سے پاکستانی معیشت کو ڈھائی کھرب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق، کاروبار اور دکانیں بند رہنے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ سوا سے پونے دو کروڑ محنت کش اور ملازمت پیشہ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے مطابق یہ اعدادوشمار پچھلے دو ہفتوں کے دوران حکومت کے مختلف محکموں سے ملنے والی معلومات اور ماہرین کے تجزیوں پر مبنی ہیں۔

کوود انیس کے بحران کے دوران وزیراعظم عمران خان کا موقف رہا ہے کہ پاکستان جیسا غریب آبادی والا ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن صحت کے عالمی ماہرین کے نزدیک اس مہلک وبا کی روک تھام کے لیے اکثر ملکوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔

کراچی میں مزدوروں کی فلاح کے لیے سرگرم تنظیم "پائیلر" کے سربراہ کرامت علی کے مطابق بیروزگاری سے متعلق تازہ اندازے تشویشناک ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ حقیقت اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔

کرامت علی کے مطابق، پاکستان کی افرادی قوت کا بڑا حصہ انفارمل سیکٹر میں دہاڑی پر کام کرتا ہے، جس میں ٹیکسٹائل انڈسٹری سب سے اہم ہے۔ "ہمارے اندازوں کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ لوگ تو صرف اس سیکڑ میں کام کرکے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ یہ طبقہ بلکل لاوارث ہوتا ہے۔ ان کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ انہیں کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ فاقوں پر نہ آجائیں، اس کے لیے حکومت کو سوشل سکیورٹی کا انتظام کرنا ہوگا۔"

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر شاہد کاردار کے مطابق لاک ڈاؤن اور بیروزگاری کی وجہ سے ملک میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ مزید لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آ سکتے ہیں۔

کورونا وائرس کے ممنکہ معاشی نقصانات پر اپنے ایک حالیہ مضمون میں دونوں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے ٹیکس محصولات میں زبردست کمی آئے گی جبکہ اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک میں بھیجی جانے والی رقوم میں کمی آئے گی اور برآمدات متاثر ہوں گی، جس کا براہ راست اثر ادائیگیوں کے توازن پر پڑے گا۔

ان حالات کے پیش نظر عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی پیداوار میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ نیو یارک میں قائم موڈیز انویسٹرز نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی شرح نمو مزید کم ہو کر دو فیصد تک آ سکتی ہے جبکہ ایشائی ترقیاتی بینک کے مطابق یہ شرح 2.6 سے نہیں بڑھ پائے گی۔

ویڈیو دیکھیے 01:35

بھارت اور پاکستان کے غریبوں کے لیے کھانا اور راشن مفت

ملتے جلتے مندرجات