کوئٹہ میں فرقہ وارانہ فسادات، آٹھ افراد ہلاک سات زخمی | حالات حاضرہ | DW | 25.05.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کوئٹہ میں فرقہ وارانہ فسادات، آٹھ افراد ہلاک سات زخمی

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بار پھرفرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے ہیں ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سنی اور شعیہ مسلمانوں پرہونے والے مختلف حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک جب کہ سات دیگر زخمی ہو ئے ہیں۔

حکام کے مطابق نامعلوم نقاب پوش حملہ اوروں نے کوئٹہ شہر کے مرکزی علاقے میں سنی اور شیعہ مسلک کے افراد کو دکانوں ، اور عام سڑکوں پر نشانہ بنایا، جس سے شہر میں زبردست کشیدگی پھیل گئی۔ ان پرتشدد واقعات کے خلاف ہزاروں لوگ شہر میں سراپا احتجا ج ہیں اور مظاہرین نے کئی سڑکوں کو ٹریفک کے لئے بھی بند کر رکھا ہے۔

بلوچستان کےایک سینئیر پولیس افسر جاوید احمد کے بقول کوئٹہ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی تازہ لہرایک منظم سازش کا حصہ ہے ، اور حکومت اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’بعض عناصر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کوئٹہ میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے رہے ہیں، جس سے شہر کا امن ایک بار پھر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حالیہ پرتشدد واقعات کا آغازاس وقت ہوا جب کوئٹہ کے مرکزی علاقے مسجد روڈ پر سنی مسلک کے افراد کی دکانوں پر نامعلوم افراد نے حملے کیے۔ ان حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور لاشوں کے ہمراہ احتجاج شروع کر دیا۔‘‘

Pakistan Provinz Balochistan Proteste gegen Regierung

ان واقعات کے بعد شہر میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے

جاوید احمد نے مذید بتایا کہ سنی مسلک کے افراد پر ہونے والے حملوں کے رد عمل میں مسلح افراد نےہزارہ شیعہ مسلمانوں پر شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کئے۔

انہوں نے کہا، ’’ہزارہ قبیلے کے افراد کو جناح روڈ، شاہراہ لیاقت، قندہاری بازار اور سلیم میڈیکل کمپلیکس کے قریب نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں 6 افراد ہلاک جب کہ سات زخمی ہوئے ہیں، جن میں دو افراد کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔‘‘

ایف سی حکام کے مطابق ، کوئٹہ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد شہر میں فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ امن وامان کو یقینی بنانے کے لئے شہر میں پولیس، ایف سی، انسداد دہشت گردی فورس اور بلوچستان کانسٹیبلری کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

ایف سی ترجمان ڈاکٹر خان وسیع نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ان واقعات کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنایاگیا ہے، جن میں نمازی بھی شامل ہیں۔ اب تک یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ ان حملوں میں کون سے گروپ ملوث ہیں۔ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ فرار ہونے والےحملہ اوروں کی گرفتاری کے لئے شہرمیں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔‘‘

ایک عینی شاہد ابرار احمد نے بتا یا کہ کوئٹہ کے اہم ترین علاقے کبیر بلڈنگ کے سامنے دو مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے دو نمازی ہلاک ہو گئے۔

ڈی ڈبلیو کو انکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جناح روڈ پر زہری مسجد کے قریب دو افراد کو میرے سامنے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ میں سڑک کےعقبی جانب کھڑا تھا۔ ایک موٹر سائیکل پر موجود دو مسلح افراد وہاں آئے اور موٹر سائیکل روکتے ہی لوگوں پر فائرنگ شروع کردی یہاں دو افراد موقع پر ہلاک ہو گئے ۔ حملہ آوروں نے سروں پر ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور انہوں نے مقتولین پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔‘‘

ان فرقہ ورانہ فسادات کے بعد شہر میں تمام کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں اور ٹریفک بھی معمول سے بہت کم ہے ۔
صوبائی محکمہ داخلہ نے امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے موثر حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔