کوئٹہ ميں مسيحيوں کو گھروں ميں رہنے کی ہدايت | حالات حاضرہ | DW | 16.04.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئٹہ ميں مسيحيوں کو گھروں ميں رہنے کی ہدايت

پاکستان ميں صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ ميں گزشتہ روز دو مسيحيوں کی ہلاکت کے بعد حکام نے شہر کی مسيحی برادری کے ارکان کو ہدايت دی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہيں۔ پچھلے ايک مہينے ميں مسيحيوں کے خلاف يہ دوسرا حملہ ہے۔

کوئٹہ کے ’بيتھل ميموريل ميتھوڈسٹ چرچ‘ کے پادری سائمن بشير نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات چيت کرتے ہوئے پير کو بتايا کہ دھمکيوں اور ممکنہ حملوں کے پيش نظر انہيں يہ ہدايت دی گئی ہے کہ مسيحی برادری کے ارکان اپنے گھروں ميں رہيں۔ بشير کے مطابق مقامی مسيحی برادری سلامتی کی موجودہ صورتحال اور حاليہ واقعات پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہيں۔

پاکستان میں اتوار کے روز فائرنگ کے ایک واقعے میں دو مسیحی شہری ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں مسیحیوں کا ايک گروپ چرچ سے نکلا تو مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ مقامی پولیس کے مطابق موٹرسائیکلوں پر سوار حملہ آور اس واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد صوبے ميں مختلف مقامات پر مسیحی برادری کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور متعدد گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں۔ يہ واقعہ کوئٹہ کے مسيحی اکثريت والے علاقے عيسیٰ نگری ميں پيش آيا۔ قبل ازيں ايسٹر کے تہوار کے موقع پر بھی اسی طرز کی ايک واردات ميں ايک مسيحی خاندان کے چار ارکان کو قتل کر ديا گيا تھا۔

دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹيٹ نے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ کوئٹہ کی پوليس کے ايک اہلکار محمد زبير نے بتايا، ’’ہم نے مسيحيوں کی سلامتی کو يقينی بنانے کے ليے تمام گرجا گھروں و محلوں ميں پوليس کی اضافی نفری تعينات کر دی ہے۔‘‘

پچھلے سال دسمبر ميں اسلامک اسٹيٹ کے جہاديوں نے ’بيتھل ميموريل ميتھوڈسٹ چرچ‘ پر حملہ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک اور تيس ديگر کو زخمی کر ديا تھا۔ يہ امر اہم ہے کہ پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ بلوچستان ايک عرصے سے اسلامک اسٹيٹ، سنی انتہا پسند گروہوں اور عليحدگی پسندوں کے حملوں کی زد ميں ہے۔

ع س / ع ت، نيوز ايجنسياں